🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

376. ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب امرأة المقداد، عن المقداد
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، سیدنا مقداد کی زوجہ، کی اپنے شوہر سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17745
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ إِنَّمَا يَذْهَبُونَ لِحَاجَتِهِمْ فَرَطَ الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَيَبْعُرُونَ كَمَا تَبْعَرُ الْبَعِيرُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ خَرَجَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ حَتَّى بَلَغَ الْخَبْخَبَةَ - وَهُوَ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ - فَدَخَلَ خَرِبَةً لِحَاجَتِهِ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ إِذْ أَخْرَجَ جُرَذٌ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، فَلَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا فَقَالَ: «هَلِ اتَّبَعَتْ يَدُكَ الْجُحْرَ؟» فَقُلْتُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ: «لَا صَدَقَةَ عَلَيْكَ فِيهَا، بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا» قَالَتْ ضُبَاعَةُ: «فَمَا فَنِيَ آخِرُهَا حَتَّى رَأَيْتُ غَدَائِرَ الْوَرِقِ فِي بَيْتِ الْمِقْدَادِ»
سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا - جو سیدنا مقداد کے نکاح میں تھیں - کہتی ہیں: لوگ دو تین دن کے وقفے سے اپنی حاجت کے لیے جایا کرتے تھے، اور اونٹ کی طرح مینگنی نما فضلہ خارج کرتے تھے۔ ایک دن سیدنا مقداد اپنی حاجت کے لیے نکلے یہاں تک کہ خَبخَبہ پہنچے - جو بقیع الغرقد میں واقع ہے - تو اپنی حاجت کے لیے ایک ویران جگہ میں داخل ہوئے، وہ بیٹھے ہی تھے کہ ایک چوہے نے بل سے ایک دینار نکالا، پھر وہ دینار در دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ سترہ دینار ہو گئے۔ (مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) تو میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارا ہاتھ سوراخ کے اندر تک پہنچا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں تم پر کوئی صدقہ نہیں، اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“ ضباعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”پھر اس کا آخری حصہ بھی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے مقداد کے گھر میں چاندی کے کنگن دیکھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17745]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 259، حدیث 611»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17746
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُ لِحَاجَتِهِ فَدَخَلَ خَرِبَةً، فَإِذَا الْجُرَذُ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا دِينَارًا، حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَقُمْتُ فَمَدَدْتُ طَرَفَ الْخِرْقَةِ فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا فَذَهَبَ بِهَا الْمِقْدَادُ وَاسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ خَبَرَهَا وَقَالَ: خُذْ صَدَقَتَهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ أَهْوَيْتَ بِيَدِكَ إِلَى الْجُحْرِ» ؟ قَالَ الْمِقْدَادُ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْمِقْدَادِ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا»
سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدنا مقداد اپنی حاجت کے لیے گئے اور ایک ویران جگہ میں داخل ہوئے، تو دیکھا کہ ایک چوہا بل سے ایک ایک دینار نکال رہا ہے، یہاں تک کہ سترہ دینار نکال چکا، پھر اس نے ایک سبز کپڑے کا کنارہ نکالا۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے اٹھ کر اس کپڑے کے کنارے کو کھینچا تو اس میں ایک دینار پایا، تو یہ اٹھارہ دینار ہو گئے، تو مقداد انہیں لے کر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اجازت طلب کی، جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس داخل ہوئے تو انہیں سارا واقعہ بتایا اور کہا: یا رسول اللہ! اس کی زکاۃ لے لیجیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنا ہاتھ سوراخ کے اندر تک بڑھایا تھا؟“ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد سے فرمایا: ”اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17746]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 260، حدیث 612»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17747
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ - عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْكَ شَكَكْتُ فِيهِ، قَالَ: «فَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْأَمْرِ فَلْيَسْأَلْنِي عَنْهُ» ، قَالَ: قَوْلُكَ فِي أَزْوَاجِكَ: «إِنِّي لَأَرْجُو لَهُنَّ مِنْ بَعْدِي الصِّدِّيقِينَ» ، قَالَ: «وَمَنْ تَعُدُّونَ الصِّدِّيقِينَ؟» فَقُلْنَا: أَوْلَادَنَا الَّذِينَ يَهْلِكُونَ صِغَارًا، قَالَ: «وَلَكِنَّ الصِّدِّيقِينَ هُمُ الْمُتَصَدِّقُونَ» قَالَهَا ثَلَاثًا
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا - جو سیدنا مقداد کے نکاح میں تھیں - اپنے شوہر سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک بات جو میں نے آپ سے سنی، اس میں مجھے شک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کسی معاملے میں شک ہو تو وہ مجھ سے پوچھے۔“ میں نے کہا: آپ کا اپنی بیویوں کے بارے میں یہ فرمانا کہ ”مجھے اپنے بعد ان کے لیے صدیقین سے (خیر کی) امید ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صدیقین کسے سمجھتے ہو؟“ ہم نے کہا: اپنی اولاد کو جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ صدیقین وہ ہیں جو صدقہ کرنے والے ہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17747]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 260، حدیث 613»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17748
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَى فَرَسِهِ - يُقَالُ لَهَا: سُبْحَةٌ - «فَأَسْهَمَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَرَسِهِ سَهْمًا، وَلَهُ سَهْمًا»
سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ بدر کے دن اپنے گھوڑے - جسے 'سُبحہ' کہا جاتا تھا - پر سوار تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھوڑے کے لیے ایک حصہ اور ان کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17748]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 261، حدیث 614»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں