المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
397. منقع التيمي
سیدنا منقع تیمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 17842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ النَّهْدِيُّ، «زَعَمُوا أَنَّهُ يَعْنِي الْمُنْقَعَ بْنُ تَمِيمٍ»
ابوغسان نہدی بیان کرتے ہیں: لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے مراد منقع بن تمیم ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17842]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 299، حدیث 711»
حدیث نمبر: 17843
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، ثنا عِصْمَةُ بْنُ بِشْرٍ الْبُرْجُمِيُّ، أَخْبَرَنِي الْمُفْرَعُ، - قَالَ سَيْفٌ: أَظُنُّهُ قَدْ شَهِدَ الْقَادِسِيَّةَ - عَنِ الْمُنْقَعِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ إِبِلِنَا، فَأَمَرَ بِهَا فَقُبِضَتْ فَقُلْتُ: إِنَّ فِيهَا نَاقَتَيْنِ هَدِيَّةً لَكَ، فَعُزِلَتِ الْهَدِيَّةُ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَمَكَثَ أَيَّامًا وَخَاضَ النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعِثٌ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَقِيقِ مِصْرَ - أَوْ قَالَ: مِصْرَ، شَكَّ أَبُو غَسَّانَ - فَيُصْدِقُهُمْ فَقُلْتُ: وَاللهِ إِنَّ لَنَا وَمَا عِنْدَ أَهْلِنَا مِنْ مَالٍ وَلَا صَدَقَتَهُمْ هَهُنَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَمَعَهُ أَسْوَدٌ قَدْ حَاذَى رَأْسُهُ رَأْسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَطْوَلَ مِنْهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ كَأَنَّهُ أَهْوَى إِلَيَّ، فَكَفَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي كَذَا وَكَذَا، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى بَيَاضِ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ لَا أُحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَكْذِبُوا عَلَيَّ» قَالَ الْمُنْقَعُ: «فَلَمْ أُحَدِّثْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا نَطَقَ بِهِ كِتَابٌ، أَوْ جَرَتْ بِهِ سُنَّةٌ، يُكْذَبُ عَلَيْهِ فِي حَيَاتِهِ، فَكَيْفَ بَعْدَ مَوْتِهِ؟»
سیدنا منقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے اونٹوں کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ وصول کر لی گئی، میں نے عرض کیا: اس میں دو اونٹنیاں آپ کے لیے ہدیہ ہیں، چنانچہ ہدیے کو زکوٰۃ سے الگ کر دیا گیا۔ پھر کچھ دن گزرے اور لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو رقیقِ مصر - یا کہا: مصر، ابوغسان کو شک ہے - کی طرف بھیجنے والے ہیں تاکہ وہ ان سے زکوٰۃ وصول کریں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے اور ہمارے گھر والوں کے پاس (اب) کوئی مال نہیں، اور ان کی زکوٰۃ تو یہیں (پہنچ چکی) ہے۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپ کے ساتھ ایک سیاہ فام آدمی تھا جس کا سر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے برابر تھا، میں نے لوگوں میں اس سے زیادہ لمبا کوئی نہیں دیکھا، جب میں قریب ہوا تو گویا وہ میری طرف لپکا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا، میں نے عرض کیا: لوگ فلاں فلاں بات میں پڑ گئے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں انہیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ مجھ پر جھوٹ باندھیں۔“ منقع کہتے ہیں: ”چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی حدیث بیان کی جسے کتاب اللہ نے بیان کیا ہو یا سنت نے جاری کیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ پر جھوٹ باندھا جاتا تھا، تو آپ کی وفات کے بعد کیا حال ہوگا؟“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17843]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 300، حدیث 712»