المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
507. أبو بردة بن أبي موسى , عن المغيرة
ابوبردہ بن ابی موسیٰ کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا , ثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: أَكَلْتُ يَوْمًا ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي , فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: «مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , نَاوِلْنِي يَدَكَ , فَأَدْخَلْتُهَا صَدْرِي فَرَآهُ مَعْصُوبًا فَقَالَ: «إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک دن میں نے کھانا کھایا، پھر مسجد میں آیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن وغیرہ) میں سے کچھ کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ (قمیص کے اندر) اپنے سینے میں داخل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ پٹی بندھا ہوا ہے، تو فرمایا: ”سوائے اس کے جسے کوئی عذر ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18127]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 417، حدیث 1003»
حدیث نمبر: 18128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَمْرِو بْنِ صَالِحٍ وَحُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ رِيحَ ثُومٍ فَقَالَ: «فَمَنْ هَذَا؟» قَالَ: الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ , أَعْزِمُ عَلَيْكَ أَوْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ لَمَا أَدْخَلْتَ يَدَكَ , فَإِذَا عَلَى صَدْرِه حِزَامٌ , قَالَ: «أَرَى لَكَ عُذْرًا»
ابوبردہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی تو فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ (سیدنا) مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”(میں ہوں)، اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ اپنا ہاتھ (میرے سینے میں) ضرور ڈالیں۔“ تو ان کے سینے پر ایک پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے پاس عذر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18128]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 417، حدیث 1004»
حدیث نمبر: 18129
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ النَّسَوِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: آخِرُ غَزَاةٍ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى خِفَافِنَا: «لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ , وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ مَا لَمْ يَخْلَعْ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو آخری غزوہ لڑا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا: ”مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جب تک وہ انہیں اتار نہ دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18129]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 418، حدیث 1005»