المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
510. سويد بن سرحان , عن المغيرة
سوید بن سرحان کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18132
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالُوا , ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَرْحَانَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ طَعَامًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ وَقَدْ كَانَ تَوَضَّأَ قَبْلَ ذَلِكَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ يَتَوَضَّأُ فَانْتَهَرَنِي , فَسَاءَنِي ذَلِكَ وَاللهِ فَشَكَوْتُ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِ انْتِهَارُكَ إِيَّاهُ وَخَشِيَ أَنْ يَكُونَ فِي نَفْسِكَ عَلَيْهِ شَيْءٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ فِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلَّا خَيْرٌ , وَلَكِنَّهُ أَتَانِي بِمَاءٍ لِأَتَوَضَّأَ , وَإِنَّمَا أَكَلْتُ طَعَامًا , وَلَوْ فَعَلْتُ فَعَلَ النَّاسُ بَعْدِي»
سوید بن سرحان رحمہ اللہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر نماز کھڑی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے وضو کر چکے تھے، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کے لیے پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا، اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بری لگی، تو میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس کی شکایت کی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مغیرہ بن شعبہ پر آپ کی ڈانٹ گراں گزری ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں آپ کے دل میں اس کے خلاف کچھ نہ ہو۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے دل میں اس کے خلاف بھلائی کے سوا کچھ نہیں، لیکن وہ میرے پاس وضو کے لیے پانی لے آیا تھا، حالانکہ میں نے صرف کھانا کھایا تھا، اور اگر میں ایسے ہی کر لیتا تو میرے بعد لوگ بھی ایسا ہی کرنے لگتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18132]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 419، حدیث 1008»