المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
517. جبير بن حية الثقفي مولاهم , عن المغيرة
جبیر بن حیہ ثقفی، ان کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18166
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرٍ , عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ - وَأَحْسِبُ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبِرُونِي أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الرَّاكِبُ يَمْشِي خَلْفَ الْجَنَازَةِ , وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا وَعَن يَمِينِهَا وَعَن يَسَارِهَا , وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے - اور (راوی) کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ زیاد کے گھر والوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا - کہ ”سوار جنازے کے پیچھے چلتا ہے، اور پیدل چلنے والا اس کے پیچھے، اس کے دائیں اور اس کے بائیں چل سکتا ہے، اور ساقط (پیدائش کے وقت مر جانے والے بچے) کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18166]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 430، حدیث 1042»
حدیث نمبر: 18167
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «السِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَيُدْعَى لِأَبَوَيْهِ بِالْعَافِيَةِ وَالرَّحْمَةِ» لَمْ يَرْفَعْهُ سُفْيَانُ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساقط (پیدائش کے وقت مر جانے والے بچے) کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، اور اس کے والدین کے لیے عافیت اور رحمت کی دعا کی جاتی ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18167]
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سفیان نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18167]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 430، حدیث 1043»
حدیث نمبر: 18168
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ الْمُزَنِيُّ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ , وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا , وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے چل سکتا ہے، اور بچے کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18168]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 430، حدیث 1044»
حدیث نمبر: 18169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ , وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ , وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے چل سکتا ہے، اور بچے کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18169]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 431، حدیث 1045»
حدیث نمبر: 18170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ , وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ , وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جہاں چاہے چل سکتا ہے، اور بچے کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18170]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 431، حدیث 1046»
حدیث نمبر: 18171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، قَالَا , ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْجُبَيْرِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لیے خیر باندھی گئی ہے، اور ان کے مالکوں کی ان کے ذریعے مدد کی جاتی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18171]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 431، حدیث 1047»
حدیث نمبر: 18172
حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ مُحَمَّدُ بْنُ حَنِيفَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنِّي رِيحَ الثُّومِ قَالَ: «مَا هَذِه الرِّيحُ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ , اشْتَكَيْتُ صَدْرِي فَأَكَلْتُ , فَلَمْ يَعِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے لہسن کی بو محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیسی بو ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سینے میں تکلیف تھی تو میں نے (بطور علاج لہسن) کھا لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مجھے ملامت نہیں فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18172]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 431، حدیث 1048»
حدیث نمبر: 18173
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ بَنْدَادْقَانِ الْعِلْجُ أَنْ أَرْسِلُوا، يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ بِرَجُلٍ مِنْكُمْ نُكَلِّمْهُ , فَاخْتَارَ النَّاسُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , قَالَ أَبِي: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ طَوِيلَ الشَّعْرِ أَعْوَرَ , فَأَتَاهُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَيْنَا سَأَلْنَاهُ مَا قَالَ لَهُ؟ فَقَالَ: لَمَّا حَمِدْتُ اللهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: «إِنْ كُنَّا لَأَبْعَدَ النَّاسِ دَارًا , وَأَشَدَّ النَّاسِ جُوعًا , وَأَعْظَمَ النَّاسِ شَقَاءً , وَأَبْعَدَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ حَتَّى بَعَثَ اللهُ إِلَيْنَا رَسُولًا , فَوَعَدَنَا النَّصْرَ فِي الدُّنْيَا , وَالْجَنَّةَ فِي الْآخِرَةِ , فَلَمْ نَزَلْ نَعْرِفُ مِنْ رَبِّنَا مُنْذُ جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَلَاحَ وَالنَّصْرَ حَتَّى أَتَيْنَاكُمْ»
زیاد بن جبیر بن حیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بتایا، وہ کہتے ہیں: عجمی سردار بندادقان نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ اے عربو! اپنے میں سے کسی ایک آدمی کو بھیجو جس سے ہم بات کریں، تو لوگوں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو چن لیا۔ میرے والد کہتے ہیں: گویا میں ابھی بھی انہیں دیکھ رہا ہوں، لمبے بالوں والے، ایک آنکھ سے کانے۔ وہ اس کے پاس گئے، جب ہماری طرف واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا؟ تو انہوں نے بتایا: جب میں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی تو میں نے کہا: ”ہم لوگوں میں سب سے زیادہ اپنے وطن سے دور رہنے والے، سب سے زیادہ بھوکے، سب سے زیادہ مشقت اٹھانے والے، اور ہر بھلائی سے سب سے زیادہ دور تھے، یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا، جس نے ہم سے دنیا میں فتح اور آخرت میں جنت کا وعدہ کیا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہیں، ہم اپنے رب کی طرف سے کامیابی اور فتح مسلسل دیکھتے آئے ہیں، یہاں تک کہ ہم تمہارے پاس آ پہنچے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18173]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 432، حدیث 1049»
حدیث نمبر: 18174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: تَنَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنَحَّيْتُ مَعَهُ , فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ: «مَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ , فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ , وَذَهَبَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ فَضَاقَتْ , فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ جَاءَ يُصَلِّي , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَحْنَحُوا فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ: امْضِهْ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف ہٹے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہٹ گیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلیاں اور چہرہ دھویا، پھر ہاتھ دھونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جبہ پہن رکھا تھا اس کی آستین تنگ تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال کر دھویا، پھر اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے تشریف لائے جبکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کھنکارے (اشارہ کیا)، تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا: ”جاری رکھو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18174]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 432، حدیث 1050»