🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

523. قبيصة بن ذؤيب , عن المغيرة
قبیصہ بن ذؤیب کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18191
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنِ ابْنَتِهَا - لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا هِيَ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْئًا , وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَكِ بِشَيْءٍ , وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ الْعَشِيَّةَ , فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ الْجَدَّةَ أَتَتْنِي تَسْأَلُنِي مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنِ ابْنَتِهَا , وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ لَهَا فِي الْكِتَابِ شَيْئًا , وَلَمْ أَسْمَعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَهَا بِشَيْءٍ , فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا شَيْئًا؟ فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» فَقَالَ: هَلْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ , فَلَمَّا كَانَتْ خِلَافَةُ عُمَرَ جَاءَتْهُ الْجَدَّةُ الَّتِي تُخَالِفُهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا كَانَ الْقَضَاءُ فِي غَيْرِكِ , وَلَكِنْ إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَالسُّدُسُ بَيْنَكُمَا , وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا
قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک نانی یا دادی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اپنے پوتے یا نواسے کی میراث میں اپنا حصہ مانگ رہی تھی - مجھے یاد نہیں کہ ان میں سے کون سی تھی - تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ملتا، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تمہارے لیے کسی چیز کا فیصلہ کرتے نہیں سنا، اور میں شام کو لوگوں سے پوچھوں گا۔“ جب انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”ایک جدہ (نانی یا دادی) میرے پاس آئی، وہ اپنے پوتے یا نواسے کی میراث میں اپنا حصہ مانگ رہی ہے، اور مجھے اللہ کی کتاب میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں ملا، اور نہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لیے کسی چیز کا فیصلہ کرتے سنا، تو کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟“ اس پر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لیے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ کرتے دیکھا ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی یہ سنا ہے؟“ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لیے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ کرتے دیکھا ہے۔“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو ان کے پاس وہ دوسری نانی یا دادی آئی جو اس کے مقابل تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فیصلہ تو صرف تمہارے سوا دوسری کے حق میں ہوا تھا، لیکن اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، اور تم میں سے جو اکیلی رہ جائے وہ پورا اسی کا ہوگا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18191]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 437، حدیث 1067»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18192
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ القَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا: أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللهِ , فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ , وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ , فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «حَضَرَتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ» , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ , فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ , ثُمّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا , فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ مِنْ شَيْءٍ , وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ , وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا , وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ , فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا , وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ
قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک جدہ (دادی یا نانی) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ اللہ کی کتاب میں اپنی میراث کے بارے میں پوچھ رہی تھی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ نہیں، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ معلوم نہیں، لہٰذا واپس جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔“ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ عطا فرمایا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کہی جو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہی تھی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دلوا دیا۔ پھر دوسری جدہ (دادی یا نانی) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث مانگنے آئی، تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ ہوا تھا وہ صرف تمہارے سوا دوسری کے حق میں تھا، اور میں مقررہ حصوں میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا، لیکن وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو وہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا، اور تم میں سے جو اکیلی رہ جائے وہ اسی کا ہوگا۔“ یہ الفاظ ابن عبدالحکم کی روایت کے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18192]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 438، حدیث 1068»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں