المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. من يكنى أبا خالد أبو خالد السلمي كان ينزل الحرم
جن کی کنیت ابوخالد ہے — سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ، حرم میں مقیم رہے
حدیث نمبر: 19004
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ وَفِي مَالِهِ وَفِي وَلَدِهِ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”بندے کے لیے جب اللہ کی طرف سے کوئی ایسا مقام مقرر ہو چکا ہو جس تک وہ اپنے عمل سے نہیں پہنچ سکتا، تو اللہ اسے اس کے جسم، اس کے مال اور اس کی اولاد میں آزماتا ہے، پھر اسے اس پر صبر کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام کو پہنچ جاتا ہے جو اللہ کی طرف سے اس کے لیے مقرر تھا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19004]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 318، حدیث 801»
حدیث نمبر: 19005
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّهُ: خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَلَمْ يَنْتَهِ إِلَيْهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّهُ شَاكٍ فَقَالَ: أَتَيْتُكَ زَائِرًا وَأَتَيْتُكَ عَائِدًا وَمُبَشِّرًا، قَالَ: كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ؟ قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ وَبَلَغَنِي شِكَاتُكَ فَكَانَتْ عِيَادَةٌ وَأُبَشِّرُكُ بِشَيْءٍ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ النُّفَيْلِيِّ
سیدنا ابوخالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ اپنے ایک بھائی کی زیارت کے لیے نکلے، ابھی اس تک پہنچے ہی نہیں تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے، تو انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس زیارت کے لیے آیا تھا اور اب عیادت اور خوشخبری دینے کے لیے بھی آیا ہوں۔ اس نے پوچھا: یہ سب کیسے جمع ہو گیا؟ انہوں نے کہا: میں تمہاری زیارت کے ارادے سے نکلا تھا اور مجھے تمہاری بیماری کی خبر پہنچی تو یہ عیادت بھی بن گئی، اور میں تمہیں ایک ایسی بات کی خوشخبری دیتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے - پھر انہوں نے نفیلی کی روایت جیسی حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19005]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 318، حدیث 802»