المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. من يكنى أبا كبشة أبو كبشة الأنماري
جن کی کنیت ابوکبشہ ہے — سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19071
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي الْبُحْتُرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا فَاحْفَظُوهُ إِنَّمَا هِيَ أَهْلُ الدُّنْيَا أَرْبَعَةُ نَفَرٍ: عَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ فِيهَا مَالًا وَعِلْمًا فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَيَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ بِحَقِّهِ فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٌ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا فَهُوَ يَتَخَبَّطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ وَلَا يَعْمَلُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٌ لَمْ يَرْزُقْهُ اللهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ لِي مَالًا عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهِيَ نِيَّتِهُ وَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ"
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں، اسے یاد رکھو: دنیا والے چار طرح کے ہیں: ایک بندہ جسے اللہ نے دنیا میں مال اور علم دونوں دیے، تو وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اللہ کے حق کے مطابق اس میں عمل کرتا ہے، یہ شخص سب سے بہترین درجے پر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے علم دیا مگر مال نہ دیا، تو وہ سچی نیت رکھتا ہے، کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں جیسا عمل کرتا، تو ان دونوں کا اجر برابر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے مال دیا مگر علم نہ دیا، تو وہ بغیر علم کے اپنے مال میں الجھتا رہتا ہے، نہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اللہ کا حق ادا کرتا ہے، یہ شخص سب سے بدترین درجے پر ہے۔ اور ایک بندہ جسے اللہ نے نہ مال دیا نہ علم، تو وہ کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں جیسا عمل کرتا، تو یہی اس کی نیت ہے اور دونوں کا گناہ برابر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19071]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 345، حدیث 868»
حدیث نمبر: 19072
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، وَلَمْ يُدْخِلْ بَيْنَ سَالِمٍ وَأَبِي كَبْشَةَ أَحَدٌ
سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
(ایک روایت میں سالم اور ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی واسطہ ذکر نہیں کیا گیا۔) [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19072]
(ایک روایت میں سالم اور ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی واسطہ ذکر نہیں کیا گیا۔) [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19072]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 345، حدیث 869»
حدیث نمبر: 19073
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَبِيبٍ الطَّرَائِفِيُّ الرَّقِّيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو خُلَيْدٍ عُتْبَةُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ أُمَّتِي أَرْبَعَةُ نَفَرٍ: رَجُلٌ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا يَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللهِ فَرَآهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِهِ عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا عَمِلَ فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ، وَرَجُلٌ رَزَقَهُ اللهُ مَالًا فَخَبَطَ فِيهِ وَأَفْسَدَهُ فَرَآهُ رَجُلٌ"، فَقَالَ: «لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ مَالِهِ عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا عَمِلَ فَهُمَا فِي الْإِثْمِ سَوَاءٌ»
سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی مثال چار آدمیوں کی سی ہے: ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا جسے وہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتا تھا، ایک شخص نے اسے دیکھا اور کہا: اگر میرے پاس بھی اس جیسا مال ہوتا تو میں بھی ویسا ہی عمل کرتا جیسا اس نے کیا، تو یہ دونوں اجر میں برابر ہیں۔ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا تو اس نے اس میں اندھا دھند (خرچ) کیا اور اسے برباد کر دیا، ایک شخص نے اسے دیکھا تو کہا: اگر میرے پاس بھی اس جیسا مال ہوتا تو میں بھی ویسا ہی عمل کرتا جیسا اس نے کیا، تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19073]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 346، حدیث 870»