المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. من يكنى أبا حدرد أبو حدرد الأسلمي
جن کی کنیت ابوحدرد ہے — سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19085
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ، فَقَالَ: «كَمْ أَصْدَقْتَهَا؟» ، قَالَ: قُلْتُ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، قَالَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ»
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت کے مہر میں مدد مانگنے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے کتنا مہر دیا؟“ میں نے عرض کیا: دو سو درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بطحان (وادی) سے (مال) چلو بھر بھر کر نکالتے ہوتے تو بھی اس سے زیادہ نہ دیتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19085]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 352، حدیث 882»
حدیث نمبر: 19086
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقِ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ»
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے دو سو درہم مہر پر نکاح کیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بطحان سے (مال) چلو بھر بھر کر نکالتے ہوتے تو بھی اس سے زیادہ نہ دیتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19086]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 352، حدیث 883»
حدیث نمبر: 19087
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَصْبَهَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «كَمْ أَصْدَقْتَ يَا أَبَا حَدْرَدٍ؟» قُلْتُ: خَمْسَ أَوَاقٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ»
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوحدرد! تم نے کتنا مہر دیا؟“ میں نے عرض کیا: پانچ اوقیہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بطحان سے (مال) چلو بھر بھر کر نکالتے ہوتے تو بھی اس سے زیادہ نہ دیتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19087]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 353، حدیث 884»
حدیث نمبر: 19088
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَمَعْدَدُوا وَاخْشَوْشِنُوا وَامْشُوا حُفَاةً»
سیدنا ابوحدرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سادگی اختیار کرو، سختی برداشت کرنے کے عادی بنو، اور ننگے پاؤں چلا کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19088]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 353، حدیث 885»
حدیث نمبر: 19089
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا حَمَدُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يَسُوقُ إِبِلَنَا هَذِهِ أَوْ مَنْ يُبَلِّغُ إِبِلِنَا هَذِهِ؟» ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» قَالَ: فُلَانٌ قَالَ: «اجْلِسْ» ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، قَالَ: أَنَا فَقَالَ: «مَا اسْمُكَ؟» ، قَالَ: نَاجِيَةُ فَقَالَ: «أَنْتَ لَهَا فَسُقْهَا»
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہمارے یہ اونٹ ہانک کر لے جائے گا، یا کون ہمارے یہ اونٹ پہنچائے گا؟“ ایک آدمی کھڑا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: فلاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہا: میں (لے جاؤں گا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا نام کیا ہے؟“ اس نے کہا: ناجیہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے اہل ہو، انہیں ہانک لے جاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19089]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 353، حدیث 886»