المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. من يكنى أبا الحجاج أبو الحجاج الثمالي
جن کی کنیت ابوالحجاج ہے — سیدنا ابوالحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19145
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُولُ الْقَبْرُ لِلْمَيِّتِ حِينَ يُوضَعُ فِيهِ: وَيْحَكَ ابْنَ آدَمَ، مَا غَرَّكَ بِي؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْفِتْنَةِ وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ وَبَيْتُ الْوَحْدَةِ وَبَيْتُ الدُّودِ؟ مَا غَرَّكَ بِي إِذَا كُنْتَ تَمُرُّ بِي فَدَّادًا؟ فَإِنْ كَانَ مُصْلِحًا أَجَابَ عَنْهُ مُجِيبُ الْقَبْرِ فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مِمَّنْ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ فَيَقُولُ الْقَبْرُ: إِذَنْ أَعُودُ إِلَيْهِ خَضْرَاءَ وَيَعُودُ جَسَدُهُ نُورًا وَيَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْحَجَّاجِ وَمَا الْفَدَّادُ؟ قَالَ: الَّذِي يُقْدِمُ رَجُلًا وَيُؤَخِّرُ أُخْرَى كَمِشْيَتِكَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْيَانًا، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَلْبَسُ وَيَتَهَيَّأُ"
سیدنا ابوالحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر مردے کو، جب اسے اس میں رکھا جاتا ہے، کہتی ہے: اے ابن آدم! تجھ پر افسوس، تجھے مجھ پر کس چیز نے دھوکے میں ڈالا؟ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میں فتنے کا گھر ہوں، تاریکی کا گھر ہوں، تنہائی کا گھر ہوں اور کیڑوں کا گھر ہوں؟ تجھے مجھ پر کس چیز نے دھوکے میں ڈالا جبکہ تُو اکڑ کر میرے پاس سے گزرتا تھا؟ پھر اگر وہ نیک تھا تو قبر کی طرف سے جواب دینے والا اس کی طرف سے جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے والوں میں سے تھا؟ تو قبر کہتی ہے: تب تو میں اس کے لیے سرسبز ہو جاتی ہوں، اس کا جسم نور بن جاتا ہے اور اس کی روح رب العالمین کی طرف چڑھ جاتی ہے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے ابوالحجاج! فدّاد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص جو ایک قدم آگے رکھتا اور دوسرا پیچھے رکھتا ہے، جیسے تم بھی اے بھتیجے! کبھی کبھار چلتے ہو، اور وہ اس وقت (خوب) لباس پہنتا اور بناؤ سنگھار کرتا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند من يعرف بالكنى/حدیث: 19145]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 377، حدیث 942»