🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

15. رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبضت في حياته عليه السلام
سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی، آپ ﷺ کی زندگی ہی میں وفات پا گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَادِ ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَبْسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ:" كَانَتْ رُقْيَةُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: ١] سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُتْبَةَ طَلَاقَ رُقْيَةَ، وَسَأَلَتْهُ رُقْيَةُ ذَلِكَ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُقْيَةَ وَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ"
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے“ [سورۃ المسد: 1] تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ سے سیدہ رقیہ کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا، اور سیدہ رقیہ نے بھی خود اس کا مطالبہ کیا، چنانچہ اس نے انہیں طلاق دے دی۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ سے نکاح کیا اور وہ انہی کے نکاح میں وفات پا گئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19259]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 434، حدیث 1056»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19260
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: وَكَانَتْ رُقْيَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَفَارَقَهَا فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقْيَةَ بِمَكَّةَ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللهِ بِهِ كَانَ يُكَنَّى، وَقَدِمَتْ مَعَهُ الْمَدِينَةَ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «وَأَجْرُكَ»
زبیر بن بکار رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں سیدہ رقیہ سے نکاح کیا، اور وہ ان کے ساتھ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئیں، تو ان کے ہاں عبداللہ پیدا ہوئے جن کی نسبت سے وہ کنیت پاتے تھے، اور وہ ان کے ساتھ مدینہ آئیں، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ان کی تیمارداری کے لیے بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی اہلِ بدر کے حصوں میں سے حصہ مقرر فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: اور مجھے بھی اجر ملے گا، یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں بھی اجر ملے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19260]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 434، حدیث 1057»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19261
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «تُوُفِّيَتْ رُقْيَةُ يَوْمَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُشْرَى بَدْرٍ» ،
زہری بیان کرتے ہیں: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اسی دن ہوا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی خوشخبری لے کر آئے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19261]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 435، حدیث 1058»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19262
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «تَخَلَّفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ بَدْرٍ، عَلَى امْرَأَتِهِ رُقْيَةَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ هَكَذَا فِي كِتَابِهِ»
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا (کی تیمارداری) کی وجہ سے بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ پھر (راوی نے) یہی واقعہ اپنی کتاب میں اسی طرح ذکر کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19262]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 435، حدیث 1059»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں