المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب تأويل قوله لولا إذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا أن نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم
اللہ تعالیٰ کے فرمان ’جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے کیوں نہ کہا: ہمیں یہ بات کہنا زیب نہیں دیتا، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19506
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ زَكَرِيَّا الدَّوْرَقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُسَامَةَ فِي شَأْنِ عَائِشَةَ لَمَّا رُمِيَتْ بِالْإِفْكِ: «مَا تَقُولُ أَنْتَ؟» ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَحِلُّ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کے معاملے میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:“تم کیا کہتے ہو؟”انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہمیں یہ بات کہنا جائز نہیں، سبحانک! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19506]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 143، حدیث 202»
حدیث نمبر: 19507
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ} [النور: ١٢] ، «يُرِيدُ أَفَلَا سَمِعْتُمُوهُ» ، {قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٦] ،" يُرِيدُ بِالْبُهْتَانِ الِافْتِرَاءَ الْعَظِيمَ، مِثْلَ قَوْلِهِ فِي مَرْيَمَ {وَقَوْلُهُمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا} [النساء: ١٥٦] "
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”کیوں نہ جب تم نے یہ سنا“ [سورۃ النور: 12] ، یعنی کیا تم نے یہ نہ سنا؟ ”تم نے کہا کہ ہمیں یہ بات کہنے کی گنجائش نہیں، سبحانک! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے“ [سورۃ النور: 16] ، بہتان سے مراد بہت بڑا جھوٹا الزام ہے، جیسا کہ اللہ نے سیدہ مریم کے بارے میں فرمایا: ”اور مریم پر ان کے بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے“ [سورۃ النساء: 156] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19507]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 143، حدیث 203»
حدیث نمبر: 19508
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ} [النور: ١٢] ، يَعْنِي: «الْقَذْفَ» ، أَلَا {قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا} [النور: ١٦] ، يَعْنِي: «مَا يَنْبَغِي لَنَا» ، {أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا} [النور: ١٦] يَعْنِي: «بالْقَذْفَ، وَلَمْ تَرَ أَعْيُنُنَا» ، {سُبْحَانَكَ} [النور: ١٢] يَعْنِي: «أَلَا قُلْتُمْ سُبْحَانَكَ» ، {هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٦] يَعْنِي:" أَلَا قُلْتُمْ مِثْلَ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَذَلِكَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ مَنْ قَالَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ، هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ، وَالْبُهْتَانُ الَّذِي يَبْهَتُ فَيَقُولُ مَا لَمْ يَكُنْ"
سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”کیوں نہ جب تم نے یہ سنا“ [سورۃ النور: 12] ، یعنی تہمت، کیوں نہ ”تم نے کہا کہ ہمیں“ [سورۃ النور: 16] ، یعنی ہمیں مناسب نہ تھا، ”کہ ہم یہ بات کہیں“ [سورۃ النور: 16] ، یعنی تہمت، جبکہ ہماری آنکھوں نے (کچھ) نہیں دیکھا، ”سبحانک“ [سورۃ النور: 12] ، یعنی کیوں نہ تم نے کہا: سبحانک! ”یہ تو بہت بڑا بہتان ہے“ [سورۃ النور: 16] ، یعنی کیوں نہ تم نے وہی بات کہی جو سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہی؟ کیونکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ عائشہ کے بارے میں کہی گئی بات سنی تو کہا: سبحانک! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ اور بہتان یہ ہے کہ آدمی کسی پر جھوٹ باندھے اور ایسی بات کہے جو ہوئی ہی نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19508]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 144، حدیث 204»