المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. أم سلمة واسمها هند بنت أبي أمية بن حذيفة بن المغيرة بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم بن نقطة بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، نام ہند بنت ابی امیہ بن حذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم بن نقطہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب تھا
حدیث نمبر: 19800
حَدَّثَنَا بِهَذِهِ النِّسْبَةِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، «وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ قَبْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَبِي سَلَمَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، فَوَلَدَتْ لَهُ سَلَمَةَ، وَعُمَرَ، وَزَيْنَبَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ عَنْهَا فَخَلَّفَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد کے نکاح میں تھیں، ان کے ہاں سلمہ، عمر اور زینب پیدا ہوئے۔ پھر ابوسلمہ فوت ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19800]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 246، حدیث 496»
حدیث نمبر: 19801
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَوْجِهَا أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي عِنْدَكَ، اللهُمَّ أَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَهُ اللهُ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا"، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فِي أَبِي سَلَمَةَ عِنْدَكَ، اللهُمَّ أَبْدِلْنِي بِهِ خَيْرًا مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي مِنْ خَيْرٍ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي، فَقُلْتُ: أَنَا مُصْبِيَةٌ، وَأَنَا غَيُورٌ، وَأَنَا كَبِيرَةُ السِّنِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا كِبَرُ السِّنِّ فَأَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَأَنَا أَدْعُو اللهَ أَنْ يُذْهِبَهَا عَنْكِ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ» ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَزَوَّجَنِي إِيَّاهُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں میں سے جو شخص بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ کہے: انا للہ وانا الیہ راجعون، اے اللہ! میں اپنی مصیبت کا اجر تیرے ہاں سے چاہتا ہوں، اے اللہ! مجھے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ اسے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔“ پھر جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون، اے اللہ! میں ابو سلمہ کے بارے میں اپنی مصیبت کا اجر تیرے ہاں سے چاہتی ہوں، اے اللہ! مجھے ان کے بدلے ان سے بہتر عطا فرما۔ (وہ کہتی ہیں:) پھر میں اپنے دل میں کہنے لگی: ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مجھے نکاح کا پیغام دیا، تو میں نے عرض کیا: میں بچوں والی ہوں، غیرت مند ہوں اور عمر میں بڑی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک عمر کی بات ہے تو میں تم سے بڑا ہوں، اور جہاں تک غیرت کی بات ہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے، اور بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے۔“ چنانچہ عمر بن ابی سلمہ نے حکم دیا اور میرا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19801]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 246، حدیث 497»
حدیث نمبر: 19802
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دس درہم مالیت کے سامان کے مہر پر نکاح کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19802]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 247، حدیث 498»
حدیث نمبر: 19803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَمَّا خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهُ: خِلَالٌ فِيٌّ ثَلَاثٌ، أَنَا كَبِيرَةُ السِّنِّ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُطَفَّلٌ، وَأَنَا امْرَأَةٌ شَدِيدَةُ الْغَيْرَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا السِّنُّ فَأَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْأَطْفَالُ فَهُمْ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَأَدْعُو اللهَ فَيُذْهِبُهَا عَنْكِ» ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا قَالَ: «إِنَّ بِكِ وَبِأَهْلِكِ عَلَيَّ كَرَامَةً، وَإِنِّي لَمْ أُسَبِّعْ لِأَحَدٍ مِنْ نِسَائِي، وَإِنْ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام نکاح بھیجا، میں نے عرض کیا: مجھ میں تین باتیں ہیں: میں عمر میں بڑی ہوں، بچوں والی عورت ہوں اور سخت غیرت مند عورت ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک عمر کی بات ہے تو میں تم سے بڑا ہوں، بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے، اور غیرت کے بارے میں میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا، پھر جب ان کے پاس گئے تو فرمایا: ”تم اور تمہارے گھر والے میرے نزدیک عزت والے ہو، میں نے اپنی کسی بیوی کے لیے سات دن نہیں دیے، لیکن اگر تمہارے لیے سات دن دوں تو اپنی سب بیویوں کے لیے بھی سات سات دن دوں گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19803]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 247، حدیث 499»
حدیث نمبر: 19804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ فُسْتُقَةُ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ هَلَكَ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، هَلَكَتْ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، وَآخِرُ مَنْ هَلَكَ مِنْهُنَّ أُمُّ سَلَمَةَ، هَلَكَتْ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَسِتِّينَ"
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سب سے پہلے فوت ہونے والی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فوت ہوئیں، اور سب سے آخر میں فوت ہونے والی ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ یزید بن معاویہ کے زمانے میں باسٹھ ہجری میں فوت ہوئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19804]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 248، حدیث 500»