🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

124. عطاء بن أبي رباح، عن أم سلمة
عطاء بن ابی رباح کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19914
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا لَبِسَتْ قِلَادَةً فِيهَا شُعَيْرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَهَا، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَنَزَعَتْهَا فَقَالَ: «مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكَانَهَا شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسا ہار پہنا جس میں سونے کے چند دانے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو ناپسند فرمایا اور اس سے منہ پھیر لیا، تو انہوں نے وہ ہار اتار دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ قیامت کے دن اس کی جگہ تمہیں آگ کے دانوں کا ہار نہ پہنایا جائے؟“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19914]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 280، حدیث 610»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19915
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْزَةَ الْعَتَكِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَرَّمَ اللهُ بَدَنَهُ عَلَى النَّارِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي وَتَدَعُ، قَالَ: «لَسْتُ كَأَحَدِهِمْ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو آگ پر حرام کر دیتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو کبھی یہ نماز پڑھتے اور کبھی چھوڑتے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان میں سے کسی ایک کی طرح نہیں ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19915]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 611»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19916
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ بِطُعَيْمٍ لَهَا إِلَى أَبِيهَا وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ، فَقَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِي ابْنِي وَابْنَ عَمِّكِ» ، قَالَتْ: فَجَلَّلَهُمْ، أَوْ قَالَتْ:، فَحَوَّلْتُ عَلَيْهِمُ الْكِسَاءَ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَحَامَتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، قَالَتْ أُمِّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: «أَنْتِ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَيَّ أَوْ عَلَى خَيْرٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے کچھ کھانے کے ساتھ اپنے والد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور میرے بیٹوں اور اپنے چچا زاد کو بلا لاؤ۔“ فرماتی ہیں: تو انہوں نے ان (سب) کو ایک چادر میں ڈھانپ لیا، یا کہا: میں نے ان پر چادر اوڑھا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہو، اور تم بھلائی کی طرف ہو، یا (فرمایا:) بھلائی پر ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19916]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 612»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19917
حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سونے کے کنگن پہنا کرتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ خزانہ شمار ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس کی زکاۃ ادا کر دو تو یہ خزانہ نہیں رہتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19917]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 281، حدیث 613»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں