المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
136. ثابت مولى أم سلمة، عن أم سلمة
ثابت، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19943
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَابَهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا بُهْلُولُ بْنُ مُوَرِّقٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ: مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّيهُمَا قَبْلَ الْعَصْرِ فَجَاءَنِي قَوْمٌ فَشَغَلُونِي فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ عصر سے پہلے پڑھا کرتا تھا، پھر کچھ لوگ میرے پاس آ گئے اور مجھے مشغول کر دیا، تو اب میں نے یہ پڑھ لیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 19943]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 290، حدیث 639»