🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

154. أبو عبيد الله بن عبد الله بن زمعة، عن أم سلمة
ابوعبیداللہ بن عبداللہ بن زمعہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20000
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فَاطِمَةَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ، ثُمَّ أَدْخَلَهُمْ تَحْتَ ثَوْبَهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي» ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدْخِلْنِي مَعَهُمْ، قَالَ: «إِنَّكِ مِنْ أَهْلِي»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو جمع کیا، پھر انہیں اپنی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی ان کے ساتھ داخل کر لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھی میرے اہلِ بیت میں سے ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20000]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 308، حدیث 696»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20001
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ لِلنَّوْمِ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ، فَاضْطَجَعَ فَرَقَدَ، فَاسْتَيْقَظَ وَفِي يَدِهِ تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ يُقلِّبُهَا، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ التُّرْبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ أَنَّ هَذَا يُقْتَلُ بِأَرْضِ الْعِرَاقِ لِحُسَيْنٍ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: أَرِنِي تُرْبَةَ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، فَهَذِهِ تُرْبَتُهَا".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سونے کے لیے لیٹے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مغموم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ لیٹے اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹ پلٹ رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسی مٹی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبریل نے بتایا ہے کہ یہ حسین عراق کی سرزمین میں شہید کیے جائیں گے، تو میں نے جبریل سے کہا: مجھے اس زمین کی مٹی دکھاؤ جہاں یہ شہید ہوں گے، تو یہ اسی کی مٹی ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20001]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 308، حدیث 697»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20002
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَارُودِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20002]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 308، حدیث 698»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20003
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الدَّارِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ، وَمَعَهُ نُعَيْمَانِ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا، وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْبِطٌ، وَكَانَ رَجُلًا مَزَّاحًا: أَطْعِمْنِي، قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ صَاحِبُكَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ایک سال پہلے تجارت کی غرض سے بصریٰ کی طرف نکلے، ان کے ساتھ سیدنا نعیمان اور سویبط بن حرملہ رضی اللہ عنہما تھے، اور یہ دونوں بدر کی جنگ میں شریک ہو چکے تھے۔ سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ سفر کے زادِ راہ کے ذمہ دار تھے، تو سویبط رضی اللہ عنہ، جو ایک ظریف طبیعت کے آدمی تھے، ان سے کہنے لگے: مجھے کھلاؤ۔ انہوں نے کہا: جب تک تمہارا ساتھی نہ آئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20003]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 309، حدیث 699»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20004
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنُ مُسَاوِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: طَرَقَتْنِي حَيْضَتِي وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَعَلَّكِ نُفِسْتِ» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْجِعِي فَاضْطَجِعِي» ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ فَاضْطَجَعْتُ، وَمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنَ الْإِزَارِ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: مجھے اچانک حیض آ گیا جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی، تو میں چپکے سے نکل گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر واپس آ کر لیٹ جاؤ۔“ فرماتی ہیں: تو میں واپس آ کر لیٹ گئی، اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف اتنا تہبند تھا جو گھٹنوں سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20004]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 309، حدیث 700»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20005
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِهِ غَدَاةً، فَيُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَكَانَتْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ عِنْدَهَا عَسَلٌ، وَكَانَ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا، أَحَضَرَتْ لَهُ مِنْهُ فَمَكَثَ عِنْدَهَا كَذَلِكَ، وَإِنَّ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَجَدَا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَا حِينَ دَخَلَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا نَجْدُ مِنْكَ رِيحَ مَعَافِيرَ، فَتَرَكَ ذَلِكَ الْعَسَلَ"
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت اپنی ازواج کے پاس جاتے اور انہیں سلام کرتے، ان میں سے ایک زوجہ کے پاس شہد تھا، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہ شہد پیش کرتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وجہ سے ان کے پاس ٹھہرتے۔ تو سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کو اس بات پر ناگواری ہوئی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو دونوں نے عرض کیا: ہم آپ سے معافیر کی بو محسوس کرتی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شہد چھوڑ دیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20005]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 310، حدیث 701»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں