المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
208. القاسم بن محمد، عن زينب
قاسم بن محمد کی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20120
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّمْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ، سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ بِنْتَ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيِّ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ، وَهِيَ تُحِدُّ وَهِيَ تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا أَفَتَكْتَحِلُ؟ قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ صَمَتَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: إِنَّهَا تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا فَوْقَ مَا نَظُنُّ أَفَتَكْتَحِلُ؟ قَالَ: «لَا» ، ثُمَّ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمَةٍ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نعیم بن عبداللہ عدوی کی بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے، وہ مغیرہ مخزومی کے نکاح میں تھی، اب وہ سوگ منا رہی ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“نہیں۔”پھر تھوڑی دیر خاموش رہیں، پھر عرض کیا: اسے تو ہمارے خیال سے بھی زیادہ آنکھوں کی تکلیف ہے، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“نہیں۔”پھر فرمایا:“کسی مسلمان عورت کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے، کہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے۔” [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20120]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 349، حدیث 818»