🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

219. عمرة بنت عبد الرحمن، عن أم سلمة
عمرہ بنت عبدالرحمن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20149
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَمَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، قَالَا: ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَحْلُبُهَا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟» ، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ: «مَا فَعَلْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلْقَيْنَاهُ، قَالَ: «أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِهِ؟، فَإِنَّ دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا يَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی جسے ہم دودھ دوہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ دیکھا تو پوچھا: ”تمہاری بکری کا کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا: وہ مر گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کا کیا کیا؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اس کا دباغت اس کے ذبح کے قائم مقام ہے، وہ اسی طرح حلال ہو جاتی ہے جیسے شراب سے سرکہ بننے پر وہ حلال ہو جاتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20149]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 360، حدیث 847»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20150
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ بِحُجْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِيَاحٌ فَخَرَجَ فِي رِدَاءٍ مُتَوَشِّحًا، فَقَالَ: «مَا هَؤُلَاءِ؟» ، قَالُوا: يَخْتَصِمُونَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَضَى بَيْنَهُمْ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لِأَقْضِي بَيْنَكُمْ، وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ أَخِيهِ فِي الْكَلَامِ، فَاقْضِي لَهُ بِمَا أَسْتَبِينُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ فَإِنَّمَا أُعْطِيهِ حَدَّهُ مِنَ النَّارِ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، زوجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے پاس شور مچا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چادر اوڑھے باہر نکلے اور فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا، پھر فرمایا: ”میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں، اور ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے زیادہ فصیح گفتگو کرنے والا ہو، تو میں وہی فیصلہ کرتا ہوں جو مجھے واضح ہو، پس اگر میں نے کسی کو کوئی ایسی چیز دلا دی جو اس کا حق نہیں، تو میں نے دراصل اسے آگ کا اس کا حصہ دیا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20150]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 360، حدیث 848»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں