المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
262. شهر بن حوشب، عن أم سلمة
شہر بن حوشب کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20249
حَدَّثَنَا عَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَشِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَرِّفُهَا عَلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَتْ لِي فِيمَا حَدَّثَتْنِي: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِي يَوْمًا، وَإِنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْهُ بِسَخِيَّةٍ، فَقَالَ: «انْطَلِقِي فَجِيئِي بِزَوْجِكِ أَوِ ابْنِ عَمِّكِ وَابْنَيْكِ» ، فَانْطَلَقْتُ فَجَاءَتْ بِعَلِيٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ، فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا، وَتَحْتَهُ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ فَأَخَذَ الْكِسَاءَ فَجَلَّلَهُمْ إِيَّاهُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ عِتْرَتِي وَأَهِلِّي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ؟، فَقَالَ: «وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ»
شہر بن حوشب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تعزیت کے لیے آیا تو انہوں نے مجھے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک گرم کھانے کا برتن لے کر آئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اپنے شوہر یا اپنے چچا زاد اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ۔“ چنانچہ وہ گئیں اور علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو لے آئیں، تو انہوں نے اس کھانے میں سے کھایا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک بستر پر تھے، جس کے نیچے ایک خیبری چادر تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر لے کر ان سب پر ڈال دی، پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میری عترت اور میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے ہر گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور کیا میں بھی آپ کے اہلِ بیت میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بھلائی کی طرف ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20249]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 396، حدیث 947»