المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
274. أبو صالح عن أم سلمة
ابوصالح کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20269
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَبِسْتُ قِلَادَةً فِيهَا شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَرَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَهَا فَأَعْرَضَ عَنِّي فَنَزَعْتُهَا، فَقَالَ: «مَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يُقَلِّدَكِ اللهُ مَكَانَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَعَرَاتٍ مِنْ نَارٍ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ایک ہار پہنا جس میں سونے کے تار تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ناپسند فرمایا اور مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے اسے اتار دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جگہ تمہیں آگ کے تاروں کا ہار پہنائے؟“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20269]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 403، حدیث 967»
حدیث نمبر: 20270
حَدَّثَنَا الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَعَرَاتٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِي، فَقَالَ: «عَنْهَا أُعْرِضُ» ، فَقَطَعْتُهَا، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ بِوَجْهِهِ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میں نے سونے کے تار پہن رکھے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ میری زینت کی طرف نہیں دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسی سے تو منہ پھیر رہا ہوں۔“ تو میں نے اسے کاٹ دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اپنا چہرہ پھیر لیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20270]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 404، حدیث 968»
حدیث نمبر: 20271
حَدَّثَنَا الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْرِضُ الصِّيَامَ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يُصْبِحُ فَيَقُولُ: «هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» ، فَنَقُولُ: مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ أَلَسْتَ صَائِمًا؟
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو روزے کی نیت کر لیتے، پھر صبح ہوتی تو فرماتے: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ تو ہم کہتیں: ہمارے پاس کچھ نہیں، کیا آپ روزہ دار نہیں؟ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20271]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 404، حدیث 969»