المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
282. مهاجر بن القبطية، عن أم سلمة
مہاجر بن قبطیہ کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20286
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيَبْعَثُ اللهُ بَعْثًا فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ يُخْسَفُ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا، قَالَ: «يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ»
عبیداللہ بن قبطیہ بیان کرتے ہیں: حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، تو ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اور یہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے کی بات تھی۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک پناہ لینے والا بیت اللہ کی پناہ لے گا، تو اللہ ایک لشکر بھیجے گا، جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو ان میں سے ناپسند کرتا ہو، کیا اسے بھی دھنسایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، لیکن قیامت کے دن اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20286]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 409، حدیث 984»
حدیث نمبر: 20287
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ هَذَا الْبَيْتَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ الْمُكْرَهُ، فقَالَ: «يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ»
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک لشکر اس گھر پر چڑھائی کرے گا، یہاں تک کہ جب وہ بیداء پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو مجبور ہو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20287]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 409، حدیث 985»