المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
304. علي بن الحسين، عن ميمونة
علی بن حسین کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20354
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ نَضْلَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَتِهَا، ثُمَّ قَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ: «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ وَنُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ «لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ» ، ثَلَاثًا، «وَنُصِرْتُ نُصِرْتُ» ، ثَلَاثًا، كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا فَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: «هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنُي، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَنِي بَكْرٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمُ أَحَدًا، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُوهَا فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ مَا هَذَا الْجِهَازُ؟ قَالَتْ: وَاللهِ مَا أَدْرِي، قَالَ: مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوِ بَنِي الْأَصْفَرِ فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا عِلْمَ لِي، قَالَتْ: فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يَنْشُدُهُ:
[البحر الرجز]
يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا
إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا
إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا
وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا
وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا
أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ
[البحر الرجز]
يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا... حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلُدَا
إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدًا... ثَمَّةَ أَسْلَمْنَا فَلَمْ تَنْزَعْ يَدًا
إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَ... وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا
وَزَعَمَتْ أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدًا... فَانْصُرْ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَلْبَدَا
وَادْعُ عَبَادَ اللهِ يَأْتُوا مَدَدًا... فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدَا
أَبْيَضُ مِثْلُ الْبَدْرِ يُنَحِّي صُعُدًا... لَوْ سِيمَ خَسَفَا وَجْهِهِ تَرَبَّدَا
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ، ثَلَاثًا، أَوْ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، ثَلَاثًا،» ثُمَّ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْتَصِبُ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَنُصِرَ بَنِي عَدِيٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَرِبَ خَدُّكَ وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ، فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَاكَ السَّفَرِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً» ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ مَرْوَ وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ قَدْ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَشْرَفُوا عَلَى مَرْوِ فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ: يَا بُدَيْلُ لَقَدْ أَمْسَكَتْ بَنُو كَعْبٍ أَهْلَهُ فَقَالَ: حَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ، ثُمَّ هَبَطُوا فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَسَأَلُوهُمْ أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْمِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ فَقَالَ: أَسْفِرُوا فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، فَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وُضُوءَهُ يَنْضَحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا أَبَا الْفَضْلِ لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ
علی بن حسین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باری کی رات ان کے پاس ٹھہرے، پھر نماز کے لیے وضو کرنے اٹھے تو انہوں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کے دوران فرما رہے تھے: ”لبیک، لبیک، لبیک“ تین بار، اور ”نُصِرت، نُصِرت“ تین بار۔ وہ کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ کو اپنے وضو میں فرماتے سنا: ”لبیک لبیک“ تین بار، اور ”نُصِرت نُصِرت“ تین بار، ایسے لگا جیسے آپ کسی سے بات کر رہے ہوں، کیا آپ کے ساتھ کوئی تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بنو کعب کا شاعر ہے جو مجھ سے فریاد کر رہا ہے، اور گمان کرتا ہے کہ قریش نے بنو بکر کی ان کے خلاف مدد کی ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سامانِ سفر تیار کریں اور کسی کو خبر نہ دیں۔ وہ کہتی ہیں: تو ان کے والد (ابوبکر رضی اللہ عنہ) ان کے پاس آئے اور کہا: بیٹی! یہ سامان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے کچھ معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا: یہ بنی الاصفر (روم) کی جنگ کا زمانہ تو نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے کوئی علم نہیں۔ وہ کہتی ہیں: ہم تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو میں نے شاعر کو یہ اشعار پڑھتے سنا:
اے رب! میں محمد سے فریاد کرتا ہوں، اپنے اور ان کے باپ کے قدیم عہد کا واسطہ دے کر۔
ہم نے تجھے پالا تو تو ہمارا بیٹا بنا، پھر ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم نے کبھی ہاتھ نہ کھینچا۔
بے شک قریش نے تجھ سے وعدہ خلافی کی، اور تیرے پختہ عہد کو توڑ ڈالا۔
اور گمان کیا کہ تو کسی کو نہیں پکارے گا، پس مدد فرما، اللہ تجھے ہدایت دے، بھرپور مدد سے۔
اور اللہ کے بندوں کو پکار کہ وہ کمک بن کر آئیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوں جو تیار ہو چکے ہیں۔
چاند کی طرح روشن، جو بلندی کی طرف اٹھتے ہیں، اگر ان پر زیادتی کی جائے تو ان کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہو جائے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نُصِرت“ تین بار، یا ”لبیک لبیک“ تین بار۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، جب روحاء پر پہنچے تو ایک کھڑے بادل کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑا ہو رہا ہے۔“ تو بنو نصر بن عدی بن عمرو میں سے، جو بنو کعب بن عمرو کے بھائی تھے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بنو عدی کی بھی مدد ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا رخسار خاک آلود ہو، کیا عدی، کعب کے سوا کچھ اور ہیں، اور کعب، عدی کے سوا کچھ اور ہیں؟“ وہ شخص اسی سفر میں شہید ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہماری خبر ان پر پوشیدہ رکھ یہاں تک کہ ہم انہیں اچانک پکڑ لیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ مَرّ (الظہران) میں اترے۔ اور ابو سفیان، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء اسی رات نکلے تھے اور مَرّ پر جھانکا، تو ابو سفیان نے آگیں دیکھیں اور کہا: اے بدیل! بنو کعب نے اپنے لوگوں کو روک رکھا ہے۔ بدیل نے کہا: جنگ نے انہیں تیری طرف دھکیل دیا ہے۔ پھر وہ نیچے اترے تو مزینہ نے، جو اس رات پہرے پر تھے، انہیں پکڑ لیا، تو انہوں نے ان سے درخواست کی کہ انہیں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جائیں، تو وہ انہیں ان کے پاس لے گئے، تو ابو سفیان نے ان سے درخواست کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لے لیں، تو عباس رضی اللہ عنہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، پھر انہیں لے کر نکلے، تو ابو سفیان نے کہا: ہم جانا چاہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے تک ٹھہرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کھڑے ہوئے، تو مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرف لپکے اور اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے، تو ابو سفیان نے کہا: اے ابو الفضل! تیرے بھتیجے کی بادشاہت تو بڑی عظیم ہو گئی ہے! عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے، اور وہی چیز ہے جس کی وہ رغبت رکھتے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20354]
اے رب! میں محمد سے فریاد کرتا ہوں، اپنے اور ان کے باپ کے قدیم عہد کا واسطہ دے کر۔
ہم نے تجھے پالا تو تو ہمارا بیٹا بنا، پھر ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم نے کبھی ہاتھ نہ کھینچا۔
بے شک قریش نے تجھ سے وعدہ خلافی کی، اور تیرے پختہ عہد کو توڑ ڈالا۔
اور گمان کیا کہ تو کسی کو نہیں پکارے گا، پس مدد فرما، اللہ تجھے ہدایت دے، بھرپور مدد سے۔
اور اللہ کے بندوں کو پکار کہ وہ کمک بن کر آئیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوں جو تیار ہو چکے ہیں۔
چاند کی طرح روشن، جو بلندی کی طرف اٹھتے ہیں، اگر ان پر زیادتی کی جائے تو ان کا چہرہ (غصے سے) سرخ ہو جائے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نُصِرت“ تین بار، یا ”لبیک لبیک“ تین بار۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، جب روحاء پر پہنچے تو ایک کھڑے بادل کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑا ہو رہا ہے۔“ تو بنو نصر بن عدی بن عمرو میں سے، جو بنو کعب بن عمرو کے بھائی تھے، ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بنو عدی کی بھی مدد ہو گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا رخسار خاک آلود ہو، کیا عدی، کعب کے سوا کچھ اور ہیں، اور کعب، عدی کے سوا کچھ اور ہیں؟“ وہ شخص اسی سفر میں شہید ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہماری خبر ان پر پوشیدہ رکھ یہاں تک کہ ہم انہیں اچانک پکڑ لیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ مَرّ (الظہران) میں اترے۔ اور ابو سفیان، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء اسی رات نکلے تھے اور مَرّ پر جھانکا، تو ابو سفیان نے آگیں دیکھیں اور کہا: اے بدیل! بنو کعب نے اپنے لوگوں کو روک رکھا ہے۔ بدیل نے کہا: جنگ نے انہیں تیری طرف دھکیل دیا ہے۔ پھر وہ نیچے اترے تو مزینہ نے، جو اس رات پہرے پر تھے، انہیں پکڑ لیا، تو انہوں نے ان سے درخواست کی کہ انہیں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس لے جائیں، تو وہ انہیں ان کے پاس لے گئے، تو ابو سفیان نے ان سے درخواست کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لے لیں، تو عباس رضی اللہ عنہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، پھر انہیں لے کر نکلے، تو ابو سفیان نے کہا: ہم جانا چاہتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے تک ٹھہرو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کھڑے ہوئے، تو مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی طرف لپکے اور اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے، تو ابو سفیان نے کہا: اے ابو الفضل! تیرے بھتیجے کی بادشاہت تو بڑی عظیم ہو گئی ہے! عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بادشاہت نہیں بلکہ نبوت ہے، اور وہی چیز ہے جس کی وہ رغبت رکھتے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20354]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 433، حدیث 1052»