المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
309. سليمان بن يسار، عن ميمونة
سلیمان بن یسار کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20366
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَمُرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَهْدَتْ لِي أُخْتِي أُمُّ حُفَيْدٍ أَضُبًّا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِشَاءِ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا فَقَدَّمَتِ الْأَضُبَّ إِلَيْهِ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا دَجَاجَاتٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ قَالَ: «لَا» ثُمَّ أَمْسَكَ يَدَهُ فَقُلْتُ هَذَا ضَبٌّ، فَقَالَ: «ذَاكَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ» فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا» فَأَكَلَ مِنْهُ خَالِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَنْظُرُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتی ہیں: میری بہن ام حفید نے مجھے کچھ ضب تحفے میں بھیجیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء (کی نماز) سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ان کے بھانجے تھے، تو انہوں نے ضب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھتے ہوئے ہاتھ بڑھایا کہ یہ مرغیاں ہیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر اپنا ہاتھ روک لیا، تو میں نے عرض کیا: یہ ضب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بدوؤں کا کھانا ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو خالد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے کھایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20366]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 439، حدیث 1064»
حدیث نمبر: 20367
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتی ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20367]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 440، حدیث 1065»
حدیث نمبر: 20368
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: أَعْتَقْتُ جَارِيَةً لِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِعِتْقِهَا، فَقَالَ: «آجَرَكِ اللهُ أَمَا أَنَّكِ لَوْ كُنْتِ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ»
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی آزادی کے بارے میں بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں اجر دے، اگر تم اسے اپنے ننھیال والوں کو دے دیتیں تو تمہارے لیے اجر میں زیادہ بڑھ کر ہوتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20368]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 440، حدیث 1066»