المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
347. أبو الأسود محمد بن عبد الرحمن بن نوفل يتيم عروة، عن عروة بن الزبير، عن أسماء بنت أبي بكر
ابواسود، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ کے یتیم پروردہ، کی عروہ بن زبیر کے واسطے سے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20601
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَقْعُدُ فِي قَبْرِهِ حِينَ يَنْكَفِئُ عَنْهُ مَنْ يَشْهَدُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ مَنْ هُوَ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: هُوَ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ نَامَتْ عَيْنَاكَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُؤْمِنٍ قَالَ: وَاللهِ مَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ وَيَخُوضُونَ فَخُضْتُ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ لَا نَامَتْ عَيْنَاكَ"
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اپنی قبر میں اس وقت بیٹھتا ہے جب اس کی تدفین میں شریک لوگ اس سے پلٹ جاتے ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: وہ آدمی جسے محمد کہا جاتا ہے، وہ کون ہے؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، تیری آنکھیں سو گئیں (یعنی تجھے چین نصیب ہو)۔ اور اگر وہ مومن نہ ہو تو کہتا ہے: اللہ کی قسم! مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا اور وہ جو باتیں بناتے تھے میں نے بھی ویسی ہی باتیں بنا لیں، تو اس سے کہا جاتا ہے: سو جا، تیری آنکھیں کبھی چین سے نہ سوئیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20601]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 86، حدیث 230»
حدیث نمبر: 20602
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ يَصْدَعُ بِمَا أُمِرَ وَهُوَ يَقْرَأُ: {فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ} [الرحمن: ١٣] " وَالْمُشْرِكُونَ يَسْمَعُونَ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم ملنے کے بعد کہ جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کھلے عام بیان کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکن (کعبہ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے اور یہ پڑھ رہے تھے: ”تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟“ [سورۃ الرحمن: 13] ، اور مشرکین سن رہے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20602]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 86، حدیث 231»