المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
354. مجاهد بن جبر، عن أسماء بنت أبي بكر
مجاہد بن جبر کی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20614
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَدَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ، أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا؟ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: صَدَقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ»
مجاہد بن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: حج کو مفرد کرو، اور اپنے (اس) اندھے کی بات چھوڑ دو۔ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جس کا دل اللہ نے اندھا کر دیا ہے وہ تم ہو، کیا تم اپنی والدہ سے اس بارے میں نہیں پوچھتے؟ تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: عبداللہ بن عباس نے سچ کہا،“ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے، پھر ہم نے اسے عمرہ بنا لیا، تو ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیا، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان خوشبو کی انگیٹھیاں دہکنے لگیں (یعنی خوشبو لگائی جانے لگی)۔” [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20614]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 92، حدیث 243»
حدیث نمبر: 20615
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَفْرِدُوا الْحَجَّ، وَلَا تَسْمَعُوا قَوْلَ أَعْمَاكُمْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ الَّذِي أَعْمَى اللهُ قَلْبَهُ أَنْتَ أَرْسِلْ إِلَى أُمِّكَ فَسَلْهَا فَأَرْسَلُوا إِلَى أَسْمَاءَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ «قَدِمْنَا حُجَّاجًا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ فَأَحْلَلْنَا الْحِلِّ كُلَّهُ حَتَّى سَطَعَتِ الْمَجَامِرُ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ»
مجاہد بن جبر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: حج کو مفرد کرو، اور اپنے (اس) اندھے کی بات مت سنو۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جس کا دل اللہ نے اندھا کیا ہے وہ تم ہو، اپنی والدہ کی طرف پیغام بھیجو اور ان سے پوچھو۔ چنانچہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: ابن عباس نے سچ کہا،“ہم حج کا احرام باندھ کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم احرام کھول دیں، تو ہم نے مکمل طور پر احرام کھول دیا، یہاں تک کہ مردوں اور عورتوں کے درمیان خوشبو کی انگیٹھیاں دہکنے لگیں۔” [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20615]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 92، حدیث 244»