المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
374. محمد بن إسحاق، عن فاطمة بنت المنذر
محمد بن اسحاق کی فاطمہ بنت منذر سے روایات
حدیث نمبر: 20718
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ شَعْرُهَا، وَقَدْ صَحَّتْ وَاسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعْرٌ، فَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فاطمہ بنت منذر سے، وہ اپنی دادی سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، تو اسے یہ زخم - چیچک یا خسرہ - لگ گیا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، اور وہ صحت یاب ہو چکی تھی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20718]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 127، حدیث 347»
حدیث نمبر: 20719
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَةً تَسْأَلُهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي زَوَّجَتُ ابْنَتِي فَأَصَابَتْهَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ - الْجُدَرِيُّ أَوِ الْحَصْبَةُ - فَسَقَطَ مِنْهَا شَعَرُهَا، ثُمَّ قَدْ صَحَّتْ وَقَدِ اسْتَحَثَّنَا بِهَا زَوْجُهَا، وَلَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا شَعَرٌ أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فاطمہ بنت منذر سے، وہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جبکہ ایک عورت آپ سے سوال کر رہی تھی، اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اسے یہ بیماری - چیچک یا خسرہ - لگ گئی جس سے اس کے بال جھڑ گئے، پھر وہ صحت یاب ہو گئی اور اس کے شوہر نے ہم سے اس کی بابت جلدی مچائی، جبکہ اس کے سر پر بال نہیں تھے، تو کیا ہم اس کے سر پر کچھ ایسی چیز لگا دیں جس سے وہ خوبصورت لگے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20719]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 348»
حدیث نمبر: 20720
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت فرمائی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20720]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 349»
حدیث نمبر: 20721
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْهُ امْرَأَةٌ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ ثِيَابَهَا، فَقَالَ: «اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ ثُمَّ انْضَحِيهِ فِي سَائِرِ ثَوْبِكِ وَصَلِّي فِيهِ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑوں پر لگے حیض کے خون کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی سے دھو لو، پھر اپنے باقی کپڑے پر چھینٹے مارو اور اس میں نماز پڑھ لو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20721]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 350»
حدیث نمبر: 20722
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا سَمِعْتِ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً وَإِنِّي أَتَشَبَّعُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَا يُصِيبُنِي أَغِيظُهَا بِذَلِكَ، فَهَلْ عَلَى فِي ذَلِكَ شَيْءٌ؟ فَقَالَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا، اس نے عرض کیا: میری ایک سوکن ہے اور میں اپنے شوہر کی طرف سے ایسی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرتی ہوں جو مجھے نہیں ملتی، تاکہ اسے غصہ دلاؤں، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہ دی گئی چیز پر خود کو بھرا ہوا ظاہر کرے وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے جیسا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20722]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 128، حدیث 351»