المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
408. حفص بن أبي حفص أبو معمر التميمي، عن شهر
حفص بن ابی حفص، ابومعمر تمیمی، کی شہر سے روایات
حدیث نمبر: 20785
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا ثَوْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ أَبُو مَعْمَرٍ التَّمِيمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَقَالَ: «عَسَى رَجُلٌ يُحَدِّثُ بِمَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَهْلِهِ، أَوْ عَسَى امْرَأَةٌ تُحَدِّثُ بِمَا يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا» فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقُلْتُ: إِي وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَفْعَلْنَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّ مِثْلَ ذَلِكَ مِثْلَ شَيْطَانٍ لَقِيَ شَيْطَانَةٍ فِي ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، مرد اور عورتیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کوئی مرد اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے اسے دوسروں کو بیان کر دے، یا کوئی عورت اپنے اور اپنے شوہر کے درمیان جو کچھ ہوتا ہے اسے بیان کر دے۔“ تو لوگ خاموش رہے، میں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ، وہ ایسا کرتے ہیں اور وہ عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایسا مت کرو، کیونکہ اس کی مثال اس شیطان جیسی ہے جو راستے کے کھلے میں ایک شیطانہ سے ملا اور لوگوں کے دیکھتے ہوئے اس سے مباشرت کر لی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20785]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 162، حدیث 414»
حدیث نمبر: 20786
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْصَرَ امْرَأَةً عَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» فَخَلَعَتْهَا مِنْ يَدِهَا فَطَرَحَتْهَا فَلَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا جس کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ اللہ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ تو اس نے انہیں اپنے ہاتھ سے اتار کر پھینک دیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ کس نے انہیں اٹھایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20786]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 163، حدیث 415»