المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
414. عبد الحميد بن بهرام، عن شهر
عبدالحمید بن بہرام کی شہر سے روایات
حدیث نمبر: 20815
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ، قَالَتْ: «تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس دن فوت ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی شخص کے پاس ایک وَسق جَو کے بدلے گروی رکھی ہوئی تھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20815]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 176، حدیث 444»
حدیث نمبر: 20816
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمًا، وَعِصَابَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى يَدَهُ الْيُمْنَى بِالسَّلَامِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِنَّ، وَقَالَ: «إِيَّاكُنَّ وَكُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: أَعُوذُ بِاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ قَالَ: «إِنَّ إِحْدَاكُنَّ يَطُولُ أَيْمَتُهَا ثُمَّ يَرْزُقُهَا اللهُ الْبَعْلَ، وَتُفِيدُ الْوَلَدَ وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتُقْسَمُ بِاللهِ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ سَاعَةً خَيْرًا قَطُّ، فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللهِ»
راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ ہلا کر سلام کیا اور ان کی طرف مسکرائے، اور فرمایا: ”نعمتوں کی ناشکری سے بچو۔“ ایک عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ کی نعمتوں کی ناشکری سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی شادی میں دیر ہو جاتی ہے، پھر اللہ اسے شوہر عطا کرتا ہے، اور اس سے اولاد اور آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرماتا ہے، پھر وہ کسی وقت غصے میں آ کر اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہے: میں نے اس سے کبھی کسی گھڑی بھلائی نہیں دیکھی، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے، یہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20816]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 177، حدیث 445»
حدیث نمبر: 20817
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا فَحَذَّرَهُمُ الدَّجَّالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں بیٹھے تو لوگوں کو دجال سے خبردار کیا، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20817]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 177، حدیث 446»