🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

442. جمرة بنت قحافة
سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20908
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْقَاضِي، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَازِبٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَمْرَةُ بِنْتُ قُحَافَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَا أُمَّتَاهُ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ؟، قَالَ: فَقَالَ بُنَيٌّ لَهَا: يَا أُمَّهْ مَا لَهُ يَدْعُو أُمَّهُ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا بُنَيُّ إِنَّمَا يَعْنِي أُمَّتَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ أَعْرَاضَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا»
سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں حجۃ الوداع میں ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھی، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اے میری امت! کیا میں نے تمہیں (دین) پہنچا دیا؟“ اس پر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ایک چھوٹے بیٹے نے کہا: امی جان! انہیں کیا ہوا کہ اپنی ماں کو پکار رہے ہیں؟ جمرہ کہتی ہیں: میں نے کہا: بیٹا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنی امت ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”سن لو! تمہاری عزتیں، تمہارے مال اور تمہارے خون تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20908]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 210، حدیث 538»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20909
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَازِبٍ، حَدَّثَنِي شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ جَمْرَةِ بِنْتِ قُحَافَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَأَتَتْ زَيْنَبُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَوْجِي مُحْتَاجٌ فَهَلْ يَجُوزُ لِي أَنْ أَعُودَ عَلَيْهِ قَالَ: «نَعَمْ لَكِ أَجْرَانِ»
سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے سنا: ”صدقہ کرو، خواہ اپنے زیور ہی میں سے کیوں نہ ہو، کیونکہ تم عورتیں جہنم والوں میں اکثریت میں ہو۔“ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا شوہر محتاج ہے، تو کیا میں اسی پر خرچ کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں دہرا اجر ملے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20909]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 210، حدیث 539»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں