🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

451. حبيبة بنت سهل امرأة ثابت بن قيس بن شماس
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20935
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَتْهُ: أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ، حُدِّثَتْ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، بَلَغَ مِنْهَا ضَرْبًا لَا يَدْرِي مَا هُوَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَلَسِ فَذَكَرَتْ لَهُ الَّذِي بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ مِنْهَا» فَقَالَتْ أَمَا أَنَّ الَّذِي أَعْطَانِي عِنْدِي كَمَا هُوَ قَالَ: «فَخُذْ مِنْهَا» فَأَخَذَ مِنْهَا، قَالَتْ عَمْرَةُ: فَقَعَدَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا،
عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کیا گیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے انہیں اس قدر مارا کہ معلوم نہیں وہ کس حد تک تھا، تو وہ صبح کے دھندلکے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ثابت سے) فرمایا: ”اس سے لے لو۔“ انہوں نے کہا: سنیے! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا تھا وہ میرے پاس جوں کا توں موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے لے لو۔“ چنانچہ ثابت نے ان سے لے لیا۔ عمرہ کہتی ہیں: پھر وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھ گئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20935]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 222، حدیث 565»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20936
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ، حُدِّثَتْ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کے بارے میں یہی واقعہ پیش آیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20936]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 222، حدیث 566»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20937
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ سَهْلٍ، امْرَأَةٍ كَانَتْ هَمَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُزَوِّجَهَا فَخَطَبَهَا ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَتَزَوَّجَهَا، وَكَانَ فِي خُلُقِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ شِدَّةٌ فَضَرَبَهَا فَأَصْبَحَتْ بِالْغَلَسِ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟ فَقَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَنَا وَلَا ثَابِتٍ، فَجَاءَ ثَابِتٌ فِي أَثَرِهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَرَبْتَهَا؟» فَقَالَ: نَعَمْ، ضَرَبْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ مِنْهَا» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي كُلَّ مَا أَعْطَانِيهِ، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهَا وَجَلَسَتْ فِي بَيْتِهَا"
سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ایک ایسی خاتون تھیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کرنے کا ارادہ فرمایا تھا، پھر ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ نے انہیں نکاح کا پیغام دیا اور ان سے شادی کر لی، ثابت بن قیس کے مزاج میں سختی تھی، انہوں نے انہیں مارا تو وہ صبح کے دھندلکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر آ گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں حبیبہ ہوں، نہ میں (ثابت کے ساتھ رہ سکتی ہوں) اور نہ ثابت (میرے ساتھ)، پھر ثابت بھی ان کے پیچھے آئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم نے اسے مارا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے اسے مارا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے لے لو۔“ حبیبہ نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ انہوں نے مجھے دیا تھا وہ سب میرے پاس موجود ہے، چنانچہ ثابت نے ان سے لے لیا اور وہ اپنے گھر میں بیٹھ گئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20937]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 223، حدیث 567»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20938
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنِ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَجَّاجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْأَنْصَارِيِّ فَكَرِهَتْهُ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ وَلَوْلَا مَخَافَةُ اللهِ لَبَزَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ الَّتِي أَصْدَقَكِ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ خَلَعٍ فِي الْإِسْلَامِ"
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس انصاری رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، تو انہیں ان سے نفرت ہو گئی، اور ثابت بدصورت آدمی تھے۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! جب میں انہیں دیکھتی ہوں تو اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم انہیں وہ باغ واپس کرو گی جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کی طرف کسی کو بھیجا، چنانچہ حبیبہ نے وہ باغ انہیں واپس کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی، اور یہ اسلام میں پہلا خلع تھا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20938]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 223، حدیث 568»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں