🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

455. خولة بنت قيس بن قهيد بن قيس بن ثعلبة الأنصاري " امرأة حمزة بن عبد المطلب تكنى أم محمد "
سیدہ خولہ بنت قیس بن قہید بن قیس بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہا، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ، جن کی کنیت ام محمد تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20947
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَهِيَ امْرَأَةُ النُّعْمَانِ بْنِ الْعَجْلَانِ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقُلْنَا لَهَا: حَدِّثِينَا يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ فَقَالَ لَهَا زَوْجُهَا: انْظُرِي يَا أُمَّ مُحَمَّدٍ مَا تُحَدِّثِينَ فَإِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِغَيْرِ ثَبَتٍ شَدِيدٌ فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا لِي أَنْ أُحَدِّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْفَعُهُمْ، وأَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ يَأْخُذُ مَالًا بِحُلَّةٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ، وَلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ النَّارُ»
عبید سنوطا کہتے ہیں: ہم سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ اس وقت نعمان بن عجلان کی اہلیہ تھیں اور یہی وہ خاتون ہیں جو (پہلے) سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ہم نے ان سے کہا: اے ام محمد! ہمیں کوئی حدیث سنائیے، تو ان کے شوہر نے ان سے کہا: اے ام محمد! دیکھ لو کیا بیان کر رہی ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پختگی کے بغیر حدیث بیان کرنا سنگین بات ہے، تو انہوں نے کہا: یہ میرے لیے بری بات ہو گی کہ میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ بات بیان کروں جو ان کے لیے نفع بخش ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو کوئی حلال طریقے سے مال حاصل کرے اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20947]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 227، حدیث 577»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20948
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
عبید بن ولید کہتے ہیں: میں نے خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کو، جو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ مال شاداب اور میٹھا ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20948]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 228، حدیث 578»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20949
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تُحَدِّثُ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَمْزَةَ فَذَكَرُوا الْأمَاراتِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارَكَ اللهُ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ام محمد، حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ (خولہ رضی اللہ عنہا)، بیان کرتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے امارت و قیادت کے امور کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں اس کے لیے برکت ڈالتا ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں اپنی خواہش کے مطابق ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20949]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 228، حدیث 579»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20950
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَ هُوَ وَحَمْزَةُ الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَها بُورِكَ لَهُ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَاهُ»
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اس کا حلال حصہ لے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے اس دن آگ ہے جس دن وہ اللہ سے ملاقات کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20950]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 580»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ خَوْلَةَ، امْرَأَةِ حَمْزَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمْزَةَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ»
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو حمزہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو دنیا کا ذکر کرتے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا شاداب ہے، جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے اس دن آگ ہے جس دن وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20951]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20952
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُذَاكِرُ حَمْزَةَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَ عَفْوَها بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ، وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدہ خولہ بنت قیس بن قہد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ رضی اللہ عنہ سے دنیا کے بارے میں گفتگو کرتے سنا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اس کا حلال حصہ لے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20952]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 229، حدیث 582»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20953
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارِكَ اللهُ لَهُ فِيهَا وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں اس کے لیے برکت ڈالے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20953]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 583»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20954
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ مال میٹھا اور شاداب ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20954]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 584»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20955
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى حَمْزَةَ وَكَانَتْ خَوْلَةُ امْرَأَةُ حَمْزَةَ فَتَذَاكَرُوا الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بَارِكَ اللهُ فِيهَا وَرَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَرَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے - اور خولہ حمزہ کی اہلیہ تھیں - تو انہوں نے دنیا کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میٹھی اور شاداب ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اللہ اس میں برکت ڈالے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20955]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 585»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20956
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا خَلْفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبَانَ الْمُكَاتَبِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدِ سَنُوطَا، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ حَمْزَةَ، وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرَا الدُّنْيَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا وَرَبَّ مُتَخَوِّضٍ فِي مَالِ اللهِ وَمَالِ رَسُولِهِ لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ،
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے بارے میں گفتگو کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا شاداب اور میٹھی ہے، تو جو اسے اس کے حق کے ساتھ حاصل کرے، اس میں اس کے لیے برکت ڈالی جاتی ہے، اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے لیے قیامت کے دن آگ ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 20956]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 230، حدیث 586»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں