المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
463. خولة بنت عاصم " وهي الملاعنة التي فرق النبي صلى الله عليه وسلم، بينها، وبين زوجها، خولة خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدہ خولہ بنت عاصم رضی اللہ عنہا، وہ لعان کرنے والی خاتون تھیں جن کے اور ان کے شوہر کے درمیان نبی کریم ﷺ نے جدائی کرا دی تھی؛ خولہ، رسول اللہ ﷺ کی خادمہ
حدیث نمبر: 21006
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي، عَنْ أُمِّهَا، وَكَانَتْ خَادِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ جِرْوًا دَخَلَ الْبَيْتَ وَدَخَلَ تَحْتَ السَّرِيرِ وَمَاتَ فَمَكَثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَّامًا لَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَقَالَ:" يَا خَوْلَةُ مَا حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ جِبْرِيلُ لَا يَأْتِينِي فَهَلْ حَدَثَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللهِ حَدَثٌ فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَتَى عَلَيْنَا يَوْمٌ خَيْرٌ مِنْ يَوْمِنَا فَأَخَذَ بُرْدَهُ فَلَبِسَهُ وَخَرَجَ فَقُلْتُ: لَوْ هَيَّأْتُ الْبَيْتَ، وكَنَسْتَهُ فَأَهْوَيْتُ بِالْمِكْنَسَةِ تَحْتَ السَّرِيرِ فَإِذَا شَيْءٌ ثَقِيلٌ فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخْرَجْتُهُ فَإِذَا بِجِرْوٍ مَيِّتٍ فَأَخَذْتُهُ بِيَدِي فَأَلْقَيْتُهُ خَلْفَ الدَّارِ فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ تَرْعَدُ لَحْيَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الْوَحْيُ أَخَذَتْهُ الرِّعْدَةُ فَقَالَ:" يَا خَوْلَةُ دَثِّريني فَأَنْزَلَ اللهُ:" {وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ، وَمَا قَلَى} [الضحى: ٢] "
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ ایک کتے کا بچہ گھر میں داخل ہو کر چارپائی کے نیچے چلا گیا اور وہیں مر گیا۔ چنانچہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کئی دن ٹھہرے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل نہ ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! رسول اللہ کے گھر میں کیا ہوا ہے کہ جبریل میرے پاس نہیں آ رہے؟ کیا رسول اللہ کے گھر میں کوئی بات پیش آئی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! ہم پر آج سے بہتر کوئی دن نہیں آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی، اسے اوڑھا اور باہر تشریف لے گئے۔ میں نے (اپنے دل میں) کہا: کاش میں گھر کی صفائی کر لوں اور اسے جھاڑو دے دوں۔ چنانچہ میں نے جھاڑو چارپائی کے نیچے پھیرا تو ایک بھاری چیز محسوس ہوئی، میں برابر کوشش کرتی رہی یہاں تک کہ اسے نکال لیا، تو وہ ایک مرا ہوا کتے کا بچہ تھا۔ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے پکڑا اور گھر کے پیچھے پھینک دیا۔ پھر نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبڑے کانپ رہے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپکپی طاری ہو جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! مجھے چادر اوڑھا دو۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”قسم ہے دن کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جائے، تیرے رب نے نہ تجھے چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے“ [سورۃ الضحیٰ: 2] ۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21006]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 249، حدیث 636»