🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

492. سهلة بنت سهيل بن عمرو " امرأة أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة من أخبارها "
سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کی زوجہ، ان کے احوال میں سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21107
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ مَعَنَا فِي بَيْتِنَا، وَقَدْ بَلَغَ مَا يَبْلُغُ الرِّجَالُ، وَقَدْ عَلِمَ مَا يَعْلَمُ الرِّجَالُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ تَحْرُمِي عَلَيْهِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سالم ہمارے گھر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں، اور وہ اس عمر کو پہنچ چکے ہیں جس عمر کو مرد پہنچتے ہیں، اور وہ وہی کچھ جانتے ہیں جو مرد جانتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلاؤ، تم اس پر حرام ہو جاؤ گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21107]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 289، حدیث 737»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلِيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي، فَأَجِدُ فِي نَفْسِي فَقَالَ: «أَرْضِعِيهِ يَذْهَبُ عَنْكِ الَّذِي تَجِدِينَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم میرے پاس آتے ہیں جبکہ میں نے اپنا (اوپر کا) کپڑا اتارا ہوتا ہے، تو مجھے دل میں ناگواری محسوس ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو، جو ناگواری تم محسوس کرتی ہو وہ دور ہو جائے گی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21108]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 290، حدیث 738»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21109
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا لِيُذْهِبَ مَا فِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ سالم کو دودھ پلائیں تاکہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل کی وہ بات دور ہو جائے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21109]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 290، حدیث 739»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21110
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَأَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْ أَمَرِ سَالِمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «أَلَيْسَ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ؟» قَالَتْ: فَفَعَلَتْ، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ، مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے سالم کے معاملے میں ابوحذیفہ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ انہوں نے عرض کیا: وہ تو بڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ”کیا مجھے نہیں معلوم کہ وہ مرد ہے؟“ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: چنانچہ انہوں نے ایسا کر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو وہ عزت بخشی جو بخشی ہے، (اب) میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر کچھ (ناگواری) نہیں دیکھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21110]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 290، حدیث 740»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21111
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعُمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثَهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: ٥] فَرُدُّوا إِلَى آبَائِهِمْ، فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَإِنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ كَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللهُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ يَأْوِي مَعِي وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي وَأَنَا فَضْلٌ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعَتُهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ فَيُحَرَّمُ بِهِنَّ وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، زوجۂ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ نے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ اور جاہلیت میں جو شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بناتا، لوگ اسے اسی کی نسبت سے پکارتے اور وہ اس کی میراث پاتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا: ﴿انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں﴾ [الاحزاب: 5] چنانچہ انہیں ان کے باپوں کی طرف لوٹا دیا گیا، اور جس کا باپ معلوم نہ تھا وہ مولیٰ (دینی بھائی اور دوست) قرار پایا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو قرشی عامری رضی اللہ عنہا، جو ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سالم کو بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا، اور مجھے گھریلو کام کاج کے کپڑوں میں دیکھتا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان (منہ بولے بیٹوں) کے بارے میں جو کچھ نازل فرمایا ہے وہ آپ کو معلوم ہے، تو یا رسول اللہ! آپ اس کے معاملے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اسے دودھ پلا دو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پانچ بار دودھ پلایا جس سے وہ محرم ہو گیا، اور وہ ان کے لیے رضاعی بیٹے کی طرح ہو گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21111]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 291، حدیث 741»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں