المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
558. هارون بن بنت أم هانئ، عن أم هانئ
ہارون بن بنتِ ام ہانی کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21358
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَاقْضِيهِ يَوْمًا آخَرَ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَاقْضِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيِهِ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں روزے سے تھی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ میں آپ کا بچا ہوا پانی واپس کر دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ رمضان کی قضا کا روزہ تھا تو اسے کسی اور دن قضا کر لو، اور اگر نفلی تھا تو قضا کر لو، اور اگر چاہو تو قضا نہ کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21358]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 407، حدیث 990»
حدیث نمبر: 21359
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ، وَسَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قُلْتُ: كُنْتُ صَائِمَةً فَأَفْطَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمِنْ قَضَاءٍ كُنْتِ تَقْضِيهِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی اس میں سے پیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے، میرے لیے استغفار کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے تھی، تو میں نے روزہ توڑ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ کسی قضا کا روزہ تھا جو تم قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21359]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 408، حدیث 991»
حدیث نمبر: 21360
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: كُنْتُ قَاعِدَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ أَتَيْتُ حَدَثًا قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ يَدَكَ فَشَرِبْتُ، قَالَ: «مِنْ صَوْمٍ كُنْتِ تَقْضِيهِ؟» قَالَتْ: لَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے بھی اس میں سے پیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے لگتا ہے کہ مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں روزے سے تھی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ آپ کا ہاتھ واپس کروں، تو میں نے پی لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا یہ کسی ایسے روزے کی قضا تھی جو تم قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21360]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 408، حدیث 992»
حدیث نمبر: 21361
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي شَرِبْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ: «كُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟» قُلْتُ: فَلَا، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے پی لیا، حالانکہ میں روزے سے تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے پی لیا، حالانکہ میں روزے سے تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کسی روزے کی قضا کر رہی تھیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21361]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 409، حدیث 993»