المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
580. عامر الشعبي، عن أم هانئ
عامر شعبی کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21435
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِمَ؟ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ، وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے کوئی بے رغبتی نہیں، لیکن میں نہیں چاہتی کہ نکاح کروں جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں، جو بچپن میں بچے پر سب سے زیادہ مہربان اور شوہر کے مال میں سب سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21435]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 436، حدیث 1067»
حدیث نمبر: 21436
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَابِتٍ الثُّمَالِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلِيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «عِنْدَكِ شَيْءٌ؟» ، قُلْتُ: لَا، إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ: «مَا أَفْقَرَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ»
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، سوائے کچھ خشک روٹی کے ٹکڑوں اور سرکے کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ گھر کبھی محتاج نہیں جس میں سالن کے طور پر سرکہ موجود ہو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21436]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 437، حدیث 1068»