🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

657. أم حرام بنت ملحان الأنصارية خالة أنس بن مالك امرأة عبادة بن الصامت وهي الرميصاء
سیدہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ، وہی رمیصاء ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَارِ، قَالَ:" قَبْرُ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ بِقُبْرُسَ، وَهُمْ يَقُولُونَ: هَذَا قَبْرُ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ"
ہشام بن غاز کہتے ہیں: ”ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کی قبر قبرص میں ہے، اور وہاں کے لوگ کہتے ہیں: یہ نیک عورت کی قبر ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21778]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 130، حدیث 316»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21779
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً، فَقُلْتُ: «مَا هَذَا؟» ، فَقَالُوا: الرُّمَيْصَاءُ بِنْتُ مِلْحَانَ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو مجھے چلنے کی آہٹ سنائی دی، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ رمیصاء بنت ملحان ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21779]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 130، حدیث 317»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21780
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ بَيْنَ يَدَيَّ خَشْفَةً، فَإِذَا أَنَا بِالْغُمَيْصَاءِ بِنْتِ مِلْحَانَ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے چلنے کی آہٹ سنی، تو دیکھا کہ وہ غمیصاء بنت ملحان ہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21780]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 131، حدیث 318»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21781
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمًا فِي بَيْتِهَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَيَقُولُ: «أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينِ» ، قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ لَهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا، فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے کچھ لوگوں پر تعجب ہوا جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر سمندر میں سوار ہوں گے۔“ انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، اور بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، اور مجھ سے دو یا تین مرتبہ ایسا ہی فرمایا، اور میں کہتی رہی: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تم اگلوں میں سے ہو۔“ راوی کہتے ہیں: پھر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا، اور انہیں جہاد میں ساتھ لے گئے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ واپس آئیں تو انہیں سوار ہونے کے لیے ایک سواری قریب لائی گئی، تو وہ گر پڑیں اور ان کی گردن ٹوٹ گئی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21781]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 131، حدیث 319»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21782
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابِ أَبِي أَعْطَانِي ابْنُ الْأَشْجَعِ كُتُبًا عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ فِيهَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: كُنْتُ نَائِمَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مِنْهُ غَيْرُ بَعِيدَةٍ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يُسَبِّحُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا اللهَ عَزَّ وَجَلَّ"
سیدہ بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو تسبیح پڑھ رہے تھے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر سبز سمندر میں سوار ہوں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل سے دعا کی۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21782]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 132، حدیث 320»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21783
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا يَحْيَى بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلٌ فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: اللهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، فَقُلْتُ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، فَغَزَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَلَمَّا قَفَلَتْ رَكَضَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ، فَمَاتَتْ"
سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر اس سمندر کی سطح پر سوار ہوں گے۔“ میں نے کہا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے بھی ان میں شامل کر دے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سو گئے، بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھ کر اس سمندر کی سطح پر سوار ہوں گے۔“ میں نے کہا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگلوں میں سے ہو۔“ چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں گئیں، جب وہ واپس آ رہی تھیں تو ان کی سفید خچر نے انہیں لات ماری اور وہ فوت ہو گئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21783]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 132، حدیث 321»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا عَمِّيُ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اتَّكَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بِنْتِ مِلْحَانَ فَغَفَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمَ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: «مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ يَغْزُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ فَنَكَحَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَخَرَجَتْ مَعَ ابْنِ قِرْطَةَ، فَلَمَّا رَكِبَتْ وَقَصَتْ بِهَا دَابَّتُهَا، فَمَاتَتْ ثُمَّ دُفِنَتْ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھے اور اونگھ گئے، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی امت کے کچھ لوگوں کی وجہ سے جو اس سبز سمندر میں سوار ہو کر جہاد کریں گے، ان کی مثال بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھنے جیسی ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ چنانچہ انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا، اور ابن قرطہ کے ساتھ نکلیں، جب وہ سوار ہوئیں تو ان کی سواری نے انہیں گرا دیا، تو وہ فوت ہو گئیں، پھر انہیں دفن کیا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21784]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 132، حدیث 322»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21785
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، وَهُوَ فِي سَاحِلِ حِمْصٍ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عَمْرٌو: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ هَذَا الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا» ، فَقَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ: «أَنْتِ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ» ، فَقَالَتْ أُمُّ حَرَامٍ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: لَا"
عمرو بن اسود سے روایت ہے کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جو حمص کے ساحل پر اپنی ایک عمارت میں تھے، اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں۔ عمرو کہتے ہیں: ام حرام رضی اللہ عنہا نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو اس سمندر میں جہاد کرے گا، وہ جنت کا مستحق ہو چکا۔“ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہی میں سے ہو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر میں جہاد کرے گا، اس کی بخشش ہو چکی۔“ ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21785]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 133، حدیث 323»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21786
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي ثَابِتٍ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَنِي، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُزَاةَ الْبَحْرِ، فَقَالَ: «لِلْمَائِدِ أَجْرُ شَهِيدٍ، وَلِلْغَرِيقِ أَجْرُ شَهِيدَيْنِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ رَكِبَتْ دَابَّةً فَسَقَطَتْ فَمَاتَتْ"
ابوثابت یعلیٰ بن شداد، ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے غزوے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”سمندر میں چکر کھانے والے کے لیے ایک شہید کا اجر ہے، اور ڈوب جانے والے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر دے۔“ چنانچہ وہ سمندر میں سوار ہوئیں، پھر جب وہ سمندر سے نکلیں تو ایک سواری پر سوار ہوئیں، تو گر پڑیں اور فوت ہو گئیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21786]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 133، حدیث 324»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ امْرَأَةٍ، كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَتْ: أَيْ رَسُولَ اللهِ لَعَلَّكَ تَضْحَكُ مِنْ رَأْسِي؟ قَالَ: لَا «عُرِضَ عَلَيَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ» ، قَالَتْ: ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقَالَتْ: مَاذَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ قَوْمٌ يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَلِيلَةً غَنَائِمُهُمْ مَغْفُورٌ لَهُمْ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ»
عطاء بن یسار ایک عورت سے روایت کرتے ہیں جو ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! شاید آپ میرے سر کی حالت پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مجھ پر میری امت کے کچھ لوگ پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سمندر میں سوار ہوں گے، ان کی مثال بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھنے جیسی ہے۔“ راوی کہتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر کچھ لوگ پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے سمندر میں سوار ہوں گے، پھر تھوڑی غنیمت کے ساتھ واپس آئیں گے، اور ان کی بخشش ہو چکی ہوگی۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں شامل کر دے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21787]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 134، حدیث 325»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں