🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

682. أم جندب الأزدية
سیدہ ام جندب ازدیہ رضی اللہ عنہا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21847
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ جَدَّتِهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ وَالنَّاسُ يَزْدَحِمُونَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْجَمْرَةِ أَوِ الْجَمَرَاتِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا «النَّاسُ لَا تُهْلِكُوا أَنْفُسَكُمْ، وَارْمُوا الْجِمَارَ، بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ»
سلیمان بن عمرو بن احوص رحمہ اللہ کی دادی، ام جندب ازدیہ رضی اللہ عنہا، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ لوگ جمرے یا جمرات کے پاس ایک دوسرے پر ہجوم کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو، اور کنکریاں چھوٹی کنکری کے برابر مار کر رمی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21847]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 159، حدیث 385»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21848
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ جُنْدُبٍ: أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: «لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ»
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرے کے پاس دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اور چھوٹی کنکری کے برابر کنکریاں مار کر رمی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21848]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 159، حدیث 386»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21849
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ الْكُوفِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ أُمُّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ عَلَى دَابَّةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ وَمَعَهَا صَبِيُّ لَهَا بِهِ بَلَاءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: اسْقِيهِ مِنْهُ، وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ، فَاسْتَشْفِ اللهَ لَهُ، قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ، فَقُلْتُ: لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ، قَالَتْ: إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى، قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ الْمُقْبِلِ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلَامِ، فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ"
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن وادی کے نچلے حصے سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر تھے، پھر واپس روانہ ہوئے۔ اتنے میں خثعم قبیلے کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آئی جس کے ساتھ اس کا ایک بچہ تھا جسے کوئی بیماری لاحق تھی۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ میرا بیٹا ہے اور میرے گھر والوں میں سے باقی رہ گیا ہے، اور اسے ایک بیماری لاحق ہے کہ یہ بول نہیں سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی، پھر وہ پانی اسے دے دیا اور فرمایا: ”اسے یہ پانی پلاؤ اور اس پر ڈالو، اور اللہ سے اس کی شفا مانگو۔“ ام جندب کہتی ہیں: پھر میں اس عورت سے ملی تو میں نے کہا: کاش تم مجھے بھی اس میں سے کچھ دے دیتیں۔ اس نے کہا: یہ تو صرف اسی مریض کے لیے ہے۔ وہ کہتی ہیں: پھر اگلے سال میں اس عورت سے ملی تو میں نے اس بچے کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا: وہ شفایاب ہو گیا اور اسے ایسی سمجھ عطا ہوئی جو عام لوگوں جیسی نہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21849]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 160، حدیث 387»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21850
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَتِهِ، وَرَجُلٌ خَلْفَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ، فَقِيلَ لِي: هَذَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، فَازْدَحَمَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجِمَارَ، فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، ثُمَّ اسْتَبْطَنَ الْوَادِي، وَاسْتَعْرَضَ الْجَمْرَةَ، فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِيِ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ»
سلیمان بن عمرو بن احوص رحمہ اللہ کی والدہ (سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کے دن جمرہ عقبہ کے پاس دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے اور ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہا تھا۔ میں نے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ یہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اور جب کنکریاں مارو تو چھوٹی کنکری کے برابر کنکریاں مارو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نچلے حصے میں گئے اور جمرے کے سامنے کھڑے ہو کر وادی کے نچلے حصے سے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے، پھر واپس روانہ ہو گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21850]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 160، حدیث 388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21851
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِيِ، وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، فَرَمَى سَبْعًا» ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن وادی کے نچلے حصے سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اور چھوٹی کنکری کے برابر کنکریاں مارو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کنکریاں ماریں، پھر روانہ ہو گئے اور رکے نہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک شخص تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے بچا رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21851]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 25، صفحہ 161، حدیث 389»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں