الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4635. 11- باب قوله: أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ مِنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ (19) يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (20)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”یا پھر ان کی مثال آسمان سے برسنے والی اس موسلا دھار بارش کی طرح ہے جس میں تاریکیاں، گرج اور بجلی کی چمک ہو، وہ کڑک کے باعث موت کے خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیتے ہیں، اور اللہ کافروں کو اپنے احاطۂ قدرت میں لیے ہوئے ہے، قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے، جب کبھی وہ ان کے لیے چمکتی ہے تو وہ اس کی روشنی میں چلنے لگتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ ٹھٹک کر کھڑے رہ جاتے ہیں، اور اگر اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت کو سلب کر لیتا، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔“
حدیث نمبر: Q11890
الصيب: هو المطر كما جاء في الصحيح.
حدیث نمبر: 11890
11890- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى المطر قال: صيّباً نافعاً
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في الاستسقاء (1032) عن محمد – هو ابن مقاتل – أبو الحسن المروزي، قال: أخبرنا عبد الله، قال: أخبرنا عبيد الله، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عائشة فذكرته.»
الحكم على الحديث: صحيح