الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4639. 15- باب قوله: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ (26) الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (27)
اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے حیا نہیں فرماتا کہ وہ کوئی بھی مثال بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی بڑھ کر کسی (حقیر) چیز کی، چنانچہ جو لوگ ایمان لا چکے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی جانب سے حق ہے، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا تو وہ (اعتراضاً) کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے؟ وہ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہت سوں کو اس کے ذریعے ہدایت عطا فرماتا ہے، اور وہ اس کے ذریعے گمراہ نہیں کرتا مگر صرف ان لوگوں کو جو نافرمان ہیں، جو اللہ کے عہد کو اس کی پختگی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور ان تعلقات کو منقطع کر دیتے ہیں جنہیں جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی خسارہ پانے والے ہیں۔“
حدیث نمبر: A337
اعترض الكفار على ضرب الله المثل في قوله: مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا وفي قوله: أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ فرد الله عليهم بقوله: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا لأن ضرب الأمثال من أفصح الكلام ولذا قال الله تعالى في موضع آخر: وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ [العنكبوت: ٤٣]
وقوله تعالى: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا يعني يصح ضرب المثل بالصغير كما يصح بالكبير، لأن المقصود من ضرب المثل تقريب المعاني وإفهامه بغض النظر عن كونه حقيراً أو عظيماً، ولذا إذا ضرب الله مثلا يزداد المؤمن إيمانا، والكافر كفراً، والمنافق نفاقا.
وقوله: الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ أي هم المنافقون الذين أعلنوا بإسلامهم، فلما ضرب الله مثلا ارتابوا فيه، فنقضوا عهد الله وهو الإيمان بالله، وتركوا أوامره، وأفسدوا في الأرض، فهم الخاسرون في الدنيا والآخرة.
وقوله تعالى: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا يعني يصح ضرب المثل بالصغير كما يصح بالكبير، لأن المقصود من ضرب المثل تقريب المعاني وإفهامه بغض النظر عن كونه حقيراً أو عظيماً، ولذا إذا ضرب الله مثلا يزداد المؤمن إيمانا، والكافر كفراً، والمنافق نفاقا.
وقوله: الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ أي هم المنافقون الذين أعلنوا بإسلامهم، فلما ضرب الله مثلا ارتابوا فيه، فنقضوا عهد الله وهو الإيمان بالله، وتركوا أوامره، وأفسدوا في الأرض، فهم الخاسرون في الدنيا والآخرة.