الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4711. 87- باب قوله: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (255)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے متعلق کہ: ”اللہ، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور پوری کائنات کا نگہبان ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند، اسی کی ملکیت ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ وہ اس سے بھی واقف ہے جو ان کے سامنے ہے اور اس سے بھی جو ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ خود چاہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے اور ان دونوں کی نگہبانی اسے قطعاً نہیں تھکاتی، اور وہی نہایت بلند مرتبہ اور بڑی عظمت والا ہے“۔
حدیث نمبر: Q12027
ومعنى السنة: النعاس، وهو أول النوم.
حدیث نمبر: 12027
12027- عن أبي موسى الأشعري قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع: إن الله لا ينام، ولا ينبغي له أن ينام، يرفع القسط ويخفضه، ويُرفع إليه عمل النهار بالليل، وعمل الليل بالنهار.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الإيمان (295:179) من طرق عن محمد بن جعفر قال: حدثني شعبة، عن عمرو بن مرة، عن أبي عبيدة، عن أبي موسى قال: فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح