🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
الجامع الكامل میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
الجامع الكامل میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
الجامع الكامل میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4749. 22- باب قوله: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ (118) هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (119)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان: ”اے ایمان والو! اپنے (مومنوں) کے سوا کسی کو اپنا بھیدی اور رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری خرابی اور نقصان رسانی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، وہ تمہاری تکلیف اور مشقت کے تمنائی ہیں، ان کا بغض تو ان کی زبانوں سے ظاہر ہو چکا ہے اور جو (کینہ) ان کے سینوں میں چھپا ہے وہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، ہم نے تمہارے لیے نشانیاں واضح کر دی ہیں اگر تم عقل و دانش سے کام لو۔ دیکھو! یہ تم ہی ہو جو ان سے محبت کرتے ہو حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں رکھتے اور تم تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ”ہم ایمان لے آئے“ اور جب وہ تنہائی میں ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے مارے اپنی پوریں کاٹتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ تم اپنے اسی غصے میں مر جاؤ، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12092
قوله: بِطَانَةً أي: خاصة، وفيه نهي عن تولية غير المسلمين أعمالا حساسة في دولة الإسلام، لأنهم كما قال تعالى: لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا لا يتركون فرصة لضرركم سواء من أنفسهم أو من مساعدة الأعداء عليكم.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12092
12092- عن أبي سعيد الهدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا كانت له بطانتان: بطانة تأمره بالخير وتحضه عليه، وبطانة تأمر بالسوء وتحضه عليه، والمعصوم من عصم الله.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في القدر (6611) عن عبدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا يونس، عن الزهري، قال: حدثني أبو سلمة، عن أبي سعيد الخدري، فذكره.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں