الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4765. 38- باب قوله: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ (195)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا بیان کہ ”پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی کہ میں تم میں سے کسی بھی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے میں سے ہو، پس جن لوگوں نے ہجرت کی، اپنے گھروں سے نکالے گئے، میری راہ میں ایذا دیے گئے، لڑے اور قتل کیے گئے، تو میں ان کے گناہ ان سے ضرور دور کر دوں گا اور انہیں یقیناً ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، یہ اللہ کی طرف سے جزا ہے، اور اللہ ہی کے پاس بہترین جزا ہے۔“
حدیث نمبر: 12116
12116- عن أم سلمة قالت: يا رسول الله، لا نسمع الله ذكر النساء في الهجرة بشيء؟ فأنزل الله عز وجل: فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى إلى آخر الآية. وقالت الأنصار: هي أول ظعينة قدمت علينا.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه سعيد بن منصور (552) والترمذي (3023) والحاكم (2/300) كلهم من حديث سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن سلمة رجل من ولد أم سلمة، عن أم سلمة، فذكرته.»
الحكم على الحديث: حسن