الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4896. 14- باب قوله: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ (76) فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ (77) فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (78) إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (79)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ: ”پھر جب ان پر رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا، آپ نے فرمایا: ”یہ میرا رب ہے“، پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہنے لگے: ”میں غائب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا“، پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”یہ میرا رب ہے“، پھر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہنے لگے: ”اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاتا“، پھر جب سورج کو تابناک دیکھا تو فرمایا: ”یہ میرا رب ہے، یہ تو سب سے بڑا ہے“، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو پکار اٹھے: ”اے میری قوم! بے شک میں ان تمام چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، یقیناً میں نے کامل یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو عدم سے پیدا کیا اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں““۔
حدیث نمبر: A392
اختلف المفسرون في هذا المقام، هل هو مقام نظر أو مناظرة؟ فروي عن ابن عباس أنه مقام نظر.وكان ذلك في حال طفولته قبل قيام الحجة عليه، فلم يكن ذلك كفرا.وقال غيره: إنه في مقام مناظرة لقومه مبينا لهم بفلان ما كانوا عليه من عبادة الأصنام والكواكب والشمس والقمر، ومما يؤكد ذلك قوله تعالى: وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ... الآية.