الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5063. 4- باب قوله: أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ (9)
”کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، یعنی قومِ نوح، عاد اور ثمود، اور وہ لوگ جو ان کے بعد ہوئے جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا؟ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے (حیرت و غصے سے) اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبا لیے اور کہنے لگے ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم یقیناً اس کا انکار کرتے ہیں، اور جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس کے بارے میں ہم ایسے شک میں مبتلا ہیں جس نے ہمیں سخت خلجان اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے۔““
حدیث نمبر: A429
أي أن الله أهلك أمما من العرب وغير العرب بعد ثمود فانقطعت أخبارهم فلا يعلم أحد إلا الله سبحانه وتعالى فلا يجوز لأحد أن ينسب نفسه إلا ما يعلمه كما كان النبي صلى الله عليه وسلم ينسب نفسه إلى عدنان ثم يمسك.ذكره البخاري في مناقب الأنصار، باب مبعث النبي صلى الله عليه وسلم، وبين عدنان وبين إسماعيل عليه السلام لا يعرف عددهم.
فقوله تعالى: لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ فيه ردّ على توراة اليهود التي ذكرت فيها أنساب آدم وأبناؤه إلى من بعدهم في سفر التكوين.
فقوله تعالى: لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ فيه ردّ على توراة اليهود التي ذكرت فيها أنساب آدم وأبناؤه إلى من بعدهم في سفر التكوين.