🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

جامع الکامل میں ترقیم دار ابن بشیر سے تلاش کل احادیث (16547)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5173. 9- باب قوله: قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ (95) قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي (96)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”(موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا: اے سامری! اب تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تھی، پس میں نے (فرشتہ) رسول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی بھر لی، پھر میں نے اسے (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور میرے نفس نے میرے لیے اسی بات کو خوشنما بنا کر پیش کیا تھا۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A456
قوله: بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ أي: رأيتُ جبريلَ حين جاء لهلاك فرعون.
وقوله: فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ أي: من أثر فرسه، والرسولُ هو جبريل.
هذا قولُ أكثر المفسّرين إلا أن سياق الآية يدلّ على أن المرادَ بالرسول هو موسى عليه السلام نفسه، لأنه لما ذهب موسى عليه السلام إلى الوادي المقدّس، أمرَه اللهُ تعالى أن يخلعَ نعلَيْه، فاكتسبَ أثرُه من هذا ما لم يره غيرُ السامري، فأخذَ قبضةً من ترابٍ من آثاره، وألقاه في فم العجل، فصار له خوارٌ، فأخبرَ اللهُ موسى بذلك: قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ [سورة طه: ٨٥]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں