الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5651. 4- باب قوله: عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ (30) وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا وَلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْبَشَرِ(31)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”اس دوزخ پر انیس فرشتے مقرر ہیں، اور ہم نے دوزخ کے نگران صرف فرشتوں ہی کو بنایا ہے، اور ہم نے ان کی اس تعداد کو منکرین کے لیے محض ایک آزمائش بنایا ہے تاکہ اہل کتاب یقین کر لیں اور ایمان والوں کے ایمان میں مزید پختگی پیدا ہو، اور اہل کتاب اور مومن کسی شک میں نہ رہیں، اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور کفار یہ کہیں کہ اللہ کی اس عجیب مثال سے کیا مراد ہے؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے، اور آپ کے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ تو انسانوں کے لیے محض ایک نصیحت و یاد دہانی ہے“۔
حدیث نمبر: Q13643
هؤلاء التسعة عشر هم خزنة جهنم العظام، ومعهم من الملائكة عدد لا يحصيهم إلا الله عز وجل، ولذلك عقَّب بقوله: وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ وقد جاء في الصحيح.
حدیث نمبر: 13643
13643- عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يؤتى بجهنم يومئذ لها سبعون ألف زمام، مع كل زمام سبعون ألف ملك يجرُّونها.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في كتاب الجنة (2842) عن عمر بن حفص بن غياث، حدثنا أبي، عن العلاء بن خالد الكاهلي، عن شقيق، عن عبد الله، فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح