صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3695. السكينة في أهل الشاء
سکون و اطمینان بکریوں والوں میں پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 3689
«السكينة في أهل الشاء»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سکون و اطمینان بکریوں والوں میں پایا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3689]
”سکون و اطمینان بکریوں والوں میں پایا جاتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3689]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [البزار] عن أبي هريرة. فيض القدير.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3696. السلف في حبل الحبلة ربا
اونٹنی کے پیٹ کے بچے کی پیدائش (کی مدت) تک ....
حدیث نمبر: 3690
«السلف في حبل الحبلة ربا»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اونٹنی کے پیٹ کے بچے کی پیدائش (کی مدت) تک ادھار (کا سودا کرنا) سود ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3690]
”اونٹنی کے پیٹ کے بچے کی پیدائش (کی مدت) تک ادھار (کا سودا کرنا) سود ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3690]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ن] عن ابن عباس. أحاديث الموسوعة: الضياء.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3697. السل شهادة
تپ دق (سل کی بیماری میں مرنا) شہادت ہے۔
حدیث نمبر: 3691
«السل شهادة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”تپ دق (سل کی بیماری میں مرنا) شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3691]
”تپ دق (سل کی بیماری میں مرنا) شہادت ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3691]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [أبو الشيخ] عن عبادة بن الصامت. أحكام الجنائز ص 40: طس – سلمان. حم – راشد بن حبيش.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3698. السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من أربعة وعشرين جزءا من ....
اچھی وضع قطع، سنجیدگی اور میانہ روی نبوت کے چوبیس ....
حدیث نمبر: 3692
«السمت الحسن والتؤدة والاقتصاد جزء من أربعة وعشرين جزءا من النبوة»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”اچھی وضع قطع، سنجیدگی اور میانہ روی نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزء ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3692]
”اچھی وضع قطع، سنجیدگی اور میانہ روی نبوت کے چوبیس اجزاء میں سے ایک جزء ہیں۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3692]
تخریج الحدیث: «(حسن) ... [ت] عن عبد الله بن سرجس. الروض النضير 384، الترغيب 3/6.»
قال الشيخ الألباني: حسن
3699. السمع والطاعة حق على المرء المسلم فيما أحب أو كره ....
سننا اور اطاعت کرنا مسلمان آدمی پر واجب ہے، خواہ ....
حدیث نمبر: 3693
"السمع والطاعة حق على المرء المسلم فيما أحب أو كره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع عليه ولا طاعة"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سننا اور اطاعت کرنا مسلمان آدمی پر واجب ہے، خواہ وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3693]
”سننا اور اطاعت کرنا مسلمان آدمی پر واجب ہے، خواہ وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، پس اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3693]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم ق عق] عن ابن عمر.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3700. السنور من أهل البيت وإنه من الطوافين أو الطوافات عليكم
بلی اہلِ خانہ میں سے ہے، اور وہ تمہارے ارد ....
حدیث نمبر: 3694
«السنور من أهل البيت وإنه من الطوافين أو الطوافات عليكم»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”بلی اہلِ خانہ میں سے ہے، اور وہ تمہارے ارد گرد پھرنے والے (پاک) جانوروں میں سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3694]
”بلی اہلِ خانہ میں سے ہے، اور وہ تمہارے ارد گرد پھرنے والے (پاک) جانوروں میں سے ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3694]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن أبي قتادة. صحيح أبي داود 67.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3701. السواك مطهرة للفم مرضاة للرب
مسواک منہ کے لیے پاکیزگی اور رب کی رضا کا ....
حدیث نمبر: 3695
«السواك مطهرة للفم مرضاة للرب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مسواک منہ کے لیے پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3695]
”مسواک منہ کے لیے پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3695]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [حم] عن أبي بكر [الشافعي حم ن حب ك هق] عن عائشة [هـ] عن أبي أمامة. المشكاة 381، الإرواء 66: عد – أبي بكر. الدارمي، ابن خزيمة – عائشة. تخ، طس – ابن عباس.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3702. السواك يطيب الفم ويرضي الرب
مسواک منہ کو خوشبودار بناتی ہے اور رب کو راضی ....
حدیث نمبر: 3696
«السواك يطيب الفم ويرضي الرب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”مسواک منہ کو خوشبودار بناتی ہے اور رب کو راضی کرتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3696]
”مسواک منہ کو خوشبودار بناتی ہے اور رب کو راضی کرتی ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3696]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [طب] عن ابن عباس. الإرواء 66: تخ.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3703. السلام اسم من أسماء الله وضعه الله في الأرض فأفشوه ....
سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے ....
حدیث نمبر: 3697
«السلام اسم من أسماء الله وضعه الله في الأرض فأفشوه بينكم فإن الرجل المسلم إذا مر بقوم فسلم عليهم فردوا عليه كان له عليهم فضل درجة بتذكيره إياهم السلام فإن لم يردوا عليه رد عليه من هو خير منهم وأطيب»
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے، پس اسے آپس میں پھیلاؤ، کیونکہ جب مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرے اور انہیں سلام کرے، اور وہ اس کا جواب دیں، تو اسے سلام یاد دلانے کی وجہ سے ان پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو اس سے بہتر اور پاکیزہ (فرشتہ) اس کا جواب دے دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3697]
”سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے، پس اسے آپس میں پھیلاؤ، کیونکہ جب مسلمان آدمی کسی قوم کے پاس سے گزرے اور انہیں سلام کرے، اور وہ اس کا جواب دیں، تو اسے سلام یاد دلانے کی وجہ سے ان پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو اس سے بہتر اور پاکیزہ (فرشتہ) اس کا جواب دے دیتا ہے۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3697]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [البزار هب] عن ابن مسعود. الصحيحة 1894: طب.»
قال الشيخ الألباني: صحيح
3704. السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم ....
السلام علیکم اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم انشاء ....
حدیث نمبر: 3698
" السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون وددت أنا قد رأينا إخواننا قالوا: أولسنا إخوانك؟ قال: بل أنتم أصحابي وإخواننا الذين لم يأتوا بعد قالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك؟ قال: أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله قالوا: بلى قال: فإنهم يأتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء وأنا فرطهم على الحوض ألا ليذادن رجال عن حوضي كما يذاد البعير الضال أناديهم: ألا هلم ألا هلم فيقال: إنهم قد بدلوا بعدك فأقول: سحقا فسحقا فسحقا"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”السلام علیکم اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم انشاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ چکے ہوتے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ صحابہ نے پوچھا: آپ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے کالے گھوڑوں کے ریوڑ میں ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ (میری امت) قیامت کے دن وضو کے اثر سے چمکتے چہروں، ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان سے پہلے پہنچا ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور بھگایا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو بھگایا جاتا ہے، میں انہیں پکاروں گا: ادھر آؤ! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل ڈالا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3698]
”السلام علیکم اے مومنوں کے گھر والو! اور ہم انشاء اللہ تم سے آ ملنے والے ہیں، میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ چکے ہوتے۔ صحابہ نے پوچھا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم میرے ساتھی ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ صحابہ نے پوچھا: آپ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی آدمی کے سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والے گھوڑے کالے گھوڑوں کے ریوڑ میں ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ (میری امت) قیامت کے دن وضو کے اثر سے چمکتے چہروں، ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ آئیں گے، اور میں حوض پر ان سے پہلے پہنچا ہوں گا۔ خبردار! کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور بھگایا جائے گا جیسے بھٹکے ہوئے اونٹ کو بھگایا جاتا ہے، میں انہیں پکاروں گا: ادھر آؤ! ادھر آؤ! تو کہا جائے گا: انہوں نے آپ کے بعد (دین کو) بدل ڈالا تھا۔ تو میں کہوں گا: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ!“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/فصل في المحلى بـ[ال] من هذا الحرف./حدیث: 3698]
تخریج الحدیث: «(صحيح) ... [مالك الشافعي حم م ن هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم 129، الإرواء 776.»
قال الشيخ الألباني: صحيح