الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4665. 41- باب قوله: سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (142) وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنْتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ يَنْقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِنْ كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (143) قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ (144)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”عنقریب لوگوں میں سے نادان کہیں گے کہ انہیں ان کے اس قبلے سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر وہ پہلے کاربند تھے؟ آپ فرما دیجیے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کا ہے، وہ جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتا ہے، اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل اور بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور یہ رسول (ﷺ) تم پر گواہ ہوں، اور جس قبلے پر آپ پہلے تھے اسے ہم نے محض اس لیے مقرر کیا تھا تاکہ ہم (اعلاناً) جان لیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بلاشبہ یہ بات بہت بھاری تھی مگر ان لوگوں پر نہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی، اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارے ایمان (نمازوں) کو ضائع کر دے، بے شک اللہ لوگوں پر نہایت شفقت فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے، یقیناً ہم آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں، پس اب آپ اپنا رخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیں، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہرے اسی کی سمت پھیر لیا کرو، اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ یقیناً جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے، اور اللہ ان کے کاموں سے غافل نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 11926
11926- عن ابن عباس قال: لما وجه النبي صلى الله عليه وسلم إلى الكعبة قالوا: يا رسول الله! كيف بإخواننا الذين ماتوا وهم يصلون إلى بيت المقدس؟ فأنزل الله تعالى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه أبو داود (4680) والترمذي (2964) وأحمد (2691) وصحّحه ابن حبان (1717) والحاكم (2/269) كلهم من طرق عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 11926 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه أبو داود (4680) والترمذي (2964) وأحمد (2691) وصحّحه ابن حبان (1717) والحاكم (2/269) كلهم من طرق عن سماك بن حرب، عن عكرمة، عن ابن عباس فذكره.
0
ومن هذه الطرق طريقُ سفيان الثوري، عن سماك.
0
قال الترمذي: "حسن صحيح".وقال الحاكم: "صحيح الإسناد".
0
قلت: إسناده حسن من أجل رواية سفيان الثوري عن سماك، فإنه روى عنه قديما، ورواية من روى عنه قديما مستقيمة.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 11926 in Urdu