الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4774. 7- باب قوله: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (11) وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ(12)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے حق میں یہ وصیت (حکم) فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے، پھر اگر (صرف) لڑکیاں ہی ہوں جو دو سے زائد ہوں تو ان کے لیے اس ترکے کا دو تہائی حصہ ہے جو میت نے چھوڑا، اور اگر وہ اکیلی ہو تو اس کے لیے نصف (آدھا) ہے، اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے بشرطیکہ میت کی اولاد ہو، پھر اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کے لیے تہائی حصہ ہے، پھر اگر اس کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے، یہ تقسیم اس وصیت کی تعمیل کے بعد ہوگی جو اس نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد؛ تمہارے آباء و اجداد ہوں یا تمہاری اولاد، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون نفع پہنچانے کے اعتبار سے تمہارے زیادہ قریب ہے، یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ ہے، یقیناً اللہ خوب جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔ اور تمہارے لیے اس مال کا نصف ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اگر ان کی اولاد نہ ہو، پس اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لیے ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد، اور ان عورتوں کے لیے تمہارے ترکے کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو، پس اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کے لیے تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ہے اس وصیت کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد، اور اگر کوئی مرد یا عورت کلالہ (جس کا نہ باپ ہو نہ اولاد) کی حیثیت سے وارث بنایا جائے اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے، پھر اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے اس وصیت کے بعد جو کی گئی ہو یا قرض کے بعد بشرطیکہ وہ (وصیت یا قرض کے اقرار سے کسی وارث کو) نقصان پہنچانے والا نہ ہو، یہ اللہ کی طرف سے تاکیدی حکم ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔“
حدیث نمبر: 12128
12128- عن جابر بن عبد الله قال: جاءت امرأة سعد بن الربيع بابنتيها من سعد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله هاتان ابنتا سعد بن الربيع، قتل أبوهما معك يوم أحد شهيدا، وإن عمهما أخذ مالهما، فلم يدع لهما مالا، ولا تنكحان إلا ولهما مال، قال: يقضي الله في ذلك، فنزلت آية الميراث، فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمهما فقال: أعط ابنتي سعد الثلثين، وأعط أمهما الثمن، وما بقي فهو لك.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه الترمذي (2092)، واللفظ له، وابن ماجه (2720) وأبو داود (2892) وأحمد (14798) كلهم من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12128 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه الترمذي (2092)، واللفظ له، وابن ماجه (2720) وأبو داود (2892) وأحمد (14798) كلهم من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل، عن جابر بن عبد الله، فذكره.
0
قال الترمذي: "حسن صحيح، لا نعرف إلا من حديث عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد رواه شريك أيضا عن عبد الله بن عقيل".
0
قلت: إسناده حسن من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، فإنه مختلف فيه غير أنه حسن الحديث. وأما أبو داود فرواه من هذا الوجه، وجعل القصة لثابت بن قيس، ثم رواه من هذا الوجه في قصة سعد بن الربيع، وقال: هذا هو أصح.
0
وذكر البخاري رحمه الله تعالى حديث جابر بن عبد الله في تفسير هذه الآية، وذكره في آخر سورة النساء في آية الكلالة أولى.وسيأتي في محله.
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12128 in Urdu