الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4867. 25- باب قوله: لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (83)
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ”یقیناً آپ اہل ایمان کے ساتھ دشمنی میں سب سے سخت یہودیوں اور ان لوگوں کو پائیں گے جنہوں نے شرک کیا، اور آپ اہل ایمان کے لیے بحیثیتِ محبت سب سے قریب ان لوگوں کو پائیں گے جنہوں نے کہا کہ ”بے شک ہم نصاریٰ ہیں“، یہ اس وجہ سے ہے کہ ان میں علماء اور درویش پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے، اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول کی طرف نازل کیا گیا تو آپ دیکھتے ہیں کہ حق کو پہچان لینے کی وجہ سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے رواں ہو جاتی ہیں، وہ عرض کرتے ہیں کہ ”اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لے آئے، پس تو ہمیں (حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔““
حدیث نمبر: 12273
12273- عن عبد الله بن الزبير قال:"نزلت هذه الآية في النجاشي وفي أصحابه. وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ.
تخریج الحدیث: «حسن: رواه النسائي في الكبرى (11148)، وابن أبي حاتم في تفسيره (4/1185)، وابن جرير في تفسيره (8/602) كلهم من حديث عمر بن على بن مقدّم، قال: سمعتُ هشام بن عروة، يحدث عن أبيه، عن عبد الله بن الزبير فذكره.»
الحكم على الحديث: حسن
الجامع الكامل کی حدیث نمبر 12273 پر
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
حسن: رواه النسائي في الكبرى (11148)، وابن أبي حاتم في تفسيره (4/1185)، وابن جرير في تفسيره (8/602) كلهم من حديث عمر بن على بن مقدّم، قال: سمعتُ هشام بن عروة، يحدث عن أبيه، عن عبد الله بن الزبير فذكره.
0
وإسناده حسن من اجل عمر بن علي بن مقدم؛ فإنه حسن الحديث إلّا أنه رمي بالتدليس، ولكنه صرّح.
0
والآثار المروية في هذا الباب تقوي هذا الحديث.
0
قال ابن إسحاق: "سألت الزهري عن الآيات: ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ قال: "ما زلت أسمع علماءنا يقولون: نزلت في النجاشي وأصحابه".
0
سيرة ابن هشام (1/392).
0
Al-Jami al-Kamil Hadith 12273 in Urdu